لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی بڑی تگڑی اپوزیشن ہے لیکن اپوزیشن یک جان نہیں ہے یہ تقسیم ہے، بٹی ہوئی ہے۔ مسلم لیگ ن اس میں انتہا پسندی کی اپوزیشن کرنا چاہتی ہے جس طرح تحریک انصاف کر رہی ہے۔ سڑکوں پر بھی اور پارلیمنٹ کے اندر بھی، تحریک انصاف کی طرح کنٹینروں پر چڑھ کر نہ سہی کوئی اور طریقہ اختیار کرے لیکن وہ براہ راست ایکٹ کرنا چاہتی ہے جبکہ شہباز شریف صاحب اب مکمل طور پر الگ ہو چکے ہیں نوازشریف سے آئندہ آنے والا وقت بتائے گا۔ ان کے فیملی پرابلم ہیں۔ شہباز شریف کے نظریات بالکل متضاد ہیں اور شہباز شریف اس طرح کی انتہا پسندی کی سیاست نہیں چاہتے وہ پانچ ججوں کو کٹہرے میں نہیں لانا چاہتے۔ وہ فوج کے خلاف اتنے سوئیرایکٹیوٹی نہیں چاہتے وہ اس الیکشن کو خلائی مخلوق کا شاخسانہ نہیں کہتے۔ لیکن جس حد تک نوازشریف چاہتے ہیں۔ جس حد تک مریم نواز چاہتی ہیں اس حد تک شہباز شریفجانے کو تیار نہیں ہیں اس لئے وہ ایک بہت تنگ گلی میں چل رہے ہیں جس کے ایک طرف کنواں ہے اور دوسری طرف کھائی ہے وہ ذرا سا ادھر اُدھر ہٹیں گے تو نیچے گر پڑیں گے۔ اس لئے میں نہیں سمجھتا کہ وہ زیادہ دیر تک اس صورت حال میں رہ سکیں لہٰذا مجھے نظر آ رہا ہے کہ یا تو عنقریب ہی کوئی گرفتاری بھی ہو سکتی ہے ان پر جو کیسز ہیں ان کو بہت زیادہ لائم لائٹ میں لا کر ان پر مزید پریشر بھی پڑ سکتا ہے کوئی دوسری صورت ہو وہ بہرحال اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ اس حد تک جارحانہ اپوزیشن کر سکیں جبکہ اپوزیشن کا دوسرا بڑا حصہ خاص طور پر بلاول بھٹو اب خود کر رہے ہیں۔ بلاول بھٹو کو کیا پڑی ہے وہ کل کی مخالفتوں کو اپنے سر لے لیں۔ ان کو کیا پڑی ہے کہ پچھلے دو کی لڑائیوں اور رقابتوں کو اپنے سر پر سوار کریں۔ وہ ایک پازیٹو سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک ووکل سیاستدان کے طور پر اپوزیشن پر ان کو اپنے والد کا وقت یاد ہے اپنی والدہ، اپنے نانا کی سیاست کا وقت یاد ہے جب ذوالفقار علی بھٹو نے ایک حارحانہ قسم کی اپوزیشن کے اندر بھی اور اسمبلی سے خاص طور پر باہر الیکشن سے پہلے کی تھی لہٰذا وہ ان پانچ سالوں کو اصل میں تیاری کر رہے ہیں۔ جو ہو گیا سو گیا وہ تیاری کر رہے ہیں وہ ان پانچ سالوں کو ایک طاقتور اور تجربہ کار لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بلاول صاحب اس میں سے ابھریں گے۔ آج کل کے حالات میں جب سے سینٹ کے الیکشن ہوئے ہیں آپ نے دیکھا بلوچستان نے ایک الگ شناخت، ایک سیاسی یونٹ کے طور پر میرے خیال میں آپ جتنا بھی مذاق اڑائیں، کتنا ہی مسلم لیگ ن ان کے بارے میں کہے اور ان کا مخالف کہے کوئی اچکزئی کہے کوئی اسفند یار کوئی مولانا فضل الرحمن کہے، حقیقت یہ ہے کہ میں نے پہلی مرتبہ بلوچستان کے سیاستدانوں کو ایکٹو ہوتے دیکھا ہے بحیثیت صوبائی شناخت کے طور پر۔ اس کا کریڈٹ جاتا ہے ان فیصلوں کو جنہوں نے وہ کیا جنوں نے ڈس اون کیا نوازشریف کے اس فیصلے کو باقی کے 2½ سال میرا آدمی وزیراعلیٰ رہے گا۔ انہوں نے پہلی بخاوت ان کے خلاف کی۔ اگر ڈاکٹر مالک ہوتے تو یہ بغاوت نہ ہوتی۔ اُنہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھا ہوا ایک آدمی ان کا فیصلہ کیسے کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس کی شدت سے مخالفت کی۔ وہ لوگ جو مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے انہوں نے کھل کر اس کی مخالفت کی۔ جونہی عمران خان کی پارٹی نے ڈپٹی سپیکر بلوچستان سے نامزد کیا میں نے کہا کہ یہ پوائنٹ سکور کر گئے ہیں کیونکہ ان کا ڈپٹی سپیکر مجھے آپ یقین جانیں کہ جس دن یہ اعلان ہوا تھا مجھے یقین تھا کہ پانچ چھ ووٹ وہ زیادہ لے جائے گا۔ اس لئے کہ بعض ایسے لوگ جن کا تعلق بلوچستان سے ہے چاہے وہ پیپلزپارٹی میں ہیں چاہے وہ آزاد ہیں اس معاملے میں سپیکر کے معاملے میں تو وہ ووٹ دیں گے خورشید شاہ کو لیکن ڈپٹی سپیکر کے معاملے پر وہ ووٹ نہیں دیں گے۔
سپیکر صوبہ خیبرپختونخوا سے آ گئے، ڈپٹی سپیکر صوبہ بلوچستان سے آ گئے اور لگتا ہے صدارت صوبہ سندھ کو ملے گی۔ اس وقت کسی فرد کی بات نہیں کر رہا۔ میں نے کبھی افراد کی لڑائی نہیں لڑی۔ میں نے ہمیشہ اصولوں کی بات کی ہے۔ علوی ہوں یا کوئی اور ہو آئے گا سندھ سے۔ صدارت سندھ کو دینی پڑے گی۔ یہ سیاست ہوتی ہے موڈیلٹی کہ وزیراعظم میانوالی (پنجاب) سے ہے۔ اس وقت عمران خان 5 سال سے اس سیاسی جماعت سے چیئرمین رہا ہے جس سیاسی جماعت کی کے پی کے میں حکومت ہے مجھے پتہ تھا کہ کیوں کہتا ہے ہمارا دوست شاہ محمود قریشی مجھے پتہ ہے کہ وزیرخارجہ جو ہوتا ہے میں ذاتی طور پر جانتا ہوں میری بہت دوستی رہی ہے خورشید قصوری سے بھی ہر وزیرخارجہ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے پاس پاکستان میں رہنے کے لئے وقت ہی زیادہ نہیں ہوتا اور وہ کبھی اپنے حلقے کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا سپیکر تو ہر ہفتے ہفتے میں ایک دن آ جا سکتا ہے۔ وزیرخارجہ ایک طرف سے وطن واپس آتا ہے ایک دو دن کے بعد دوسری طرف روانہ ہو جاتا ہے ایک کانفرنس سے نکلتا ہے تو دوسری تیار ہوتی ہے۔ کبھی یو این او، کبھی دوسری جگہ۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ مجھے خورشید قصوری نے کہا کہ میں ایک دفعہ تو بن گیا ہوں میری ان سے بڑی دوستی ہے۔ میرے ذاتی تعلقات ہیں۔ میں ان کو پسند کرتا ہوں۔ پڑھے لکھے سمجھدار آدمی ہیں۔ ایک دفعہ تو میں بن گیا اگلی دفعہ بڑا مشکل ہے۔ وزیرخارجہ کا یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ ٹائم نہیں ہے اپنے حلقے کے لوگوں کو دینے کا۔ ضیا شاہد نے کہا کہ خورشید قصوری نے بھی ایک دفعہ مجھ سے کہا تھا کہ ایک بار تو بن گیا ہوں لیکن اگلی بار وزیرخارجہ نہیں بنتا کیونکہ وہ اپنے حلقے میں وقت نہیں دے پاتے تھے۔ اس حوالے سے شاہ محمود قریشی ٹھیک کہتے ہیں وہ پنجاب کے سربراہ بن کر رہنا چاہتے ہیں۔ پنجاب کا وزیراعلیٰ، وزیراعظم کے بعد دوسرے نمبر پر ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آغا سراج درانی کے والد اور چچا دونوں بھائی باری باری سندھ کے سپیکر رہے۔ جب میں نے خبریں سکھر سے نکالا تھا تو آغا سراج درانی نے مجھے کھانے پر بلایا تھا، کھانے میں مختلف اقسام کی صرف مچھلیاںہی تھیں کیونکہ ان کا بہت بڑا فش پاﺅنڈ ہے، انہوں نے جو سڑک میرے گھر کو جاتی تھی جہاں میں پیدا ہوا تھا وہاں ضیا شاہد روڈ کی تختی بھی لگائی تھی۔ آغا فیملی میں ایک علمی تشخص کی تختی بھی لگائی تھی۔ آغا فیملی میں ایک علمی تشخص پایا جاتا ہے، ان کی سندھ میں ایک بہت بڑی نجی لائبریری ہے جو صوبے کی نہیں ملک کی بہترین نجی لائبریری ہے۔ آغا سراج کے گھر ابھی تک وہ لائبریری موجود ہے۔ ڈاکٹر سمین میری شمل جنہوں نے علامہ اقبال پر بڑا تحقیقی کام کیا، انہوں نے اس لائبریری سے استفادہ کر کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو قبول کرنے والوں کو شہباز شریف قبول تھے نہ ہیں اور نہ کبھی ہوں گے۔ چند روز قبل تہمینہ درانی کا ایک بیان آیا کہ ”چند روز کے بعد پنجاب ایک بہترین لیڈر سے محروم ہو جائے گا“ پڑھ کر بڑی حیرت ہوئی، یہ وہی خاتون ہیں جن کا ایک بیان آیا تھا کہ ”نواز صاحب کو چاہئے کہ وہ فیملی کی دولت پاکستان لے آئیں“ ساتھ ہی شہباز شریف کی تعریف بھی کی تھی ان کا اشارہ تھا کہ میرے شوہر سے تو باہر ایسا کچھ نہیں کیا ہوا، ان کا دعویٰ ہے کہ شہباز شریف علیحدہ طبیعت کا مالک ہے اس کے ساتھ بڑی زیادتی ہو رہی ہے۔ تہمینہ درانی کا یہ بیان کیا نوازشریف کی بیٹی و بیٹے قبول کر سکتے ہیں؟ شہباز شریف کی بیوی بننے کے بعد تہمینہ درانی کسی سے سیدھے منہ بات نہیں کرتیں، ان کا دماغ آسمان پرچلا گیا ہے ورنہ ہماری تو بہن بنی ہوئی تھیں۔ مصطفی کھر اچھا آدمی ہے، اس کو داد دوں گا ان پر بہت الزام لگے، تہمینہ درانی اپنی کتابوں میں ان پر الزام لگاتی رہی، میں نے مصطفی کھر سے کہا کہ تم جواب کیوں نہیں دیتے تم پر الزام ہے کہ تم ”را“ کے خرچے پر انڈیا گیا اور انڈین ٹینکوں سے پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے تھے، لندن والا گھر انڈین سفارتخانے نے لے کر دیا لیکن وہ کہتے تھے کہ جواب نہیں دوں گا۔ بہت ساری کتابوں میں ان پر الزامات لگے لیکن انہوں نے کبھی تردید نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ رفیق رجوانہ اچھے آدمی ہیں، ان کا بیٹا بھی اچھا و سمجھدار لڑکا ہے الیکشن ہار گیا ہے کوئی بات نہیں، وہ اس لئے نہیں ہارا کہ رجوانہ کا بیٹا تھا بلکہ اس لئے ہارا کیونکہ نون لیگ الیکشن میں بری طرح پٹی ہے۔ رفیق رجوانہ نے غلط سمجھا کہ میں نے ان کے خلاف بات کی تھی، میں نے اصول کی بات کی تھی، کہا تھا کہ دونوں گورنر پنجاب و کے پی سیاسی ہیں ان کو ہٹایا جائے۔ انور مجید کی گرفتاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فرنٹ مین کے دن گنے چنے ہوتے ہیں، جب سیاسی وزن کم ہوتا ہے تو سب سے پہلے فرنٹ مین پر ہی ضرب آتی ہے، ایسے شخص کو اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی وہ صرف ایک شیڈو ہوتا ہے۔ آصف زرداری کی مسکراہٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جس کے پاس اتنا پیسہ ہو وہ مسکرائے نہیں تو اور کیا کرے، ان کے سوئس اکاﺅنٹ جو ساری دنیا کے سامنے ہیں وہ کلیئر ہیں، سپریم کورٹ نے بھی کلین چٹ دیدی ہے تو زرداری کے چہرے پر تو مسکراہٹ آئے گی۔
