اسلام آباد(ویب ڈیسک) ملک کے 22 ویں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور نیا قائد ایوان چننے کے لیے ایوان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا جس میں اراکین وزارتِ عظمیٰ کے امیدواروں عمران خان اور شہبازشریف کو ووٹ دیں گے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے اراکین نے وزیر اعظم کے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا اور وہ اپنی نشستوں پر ہی بیٹھے رہے جب کہ جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی بھی اپنی نشست سے نہیں اٹھے،(ن) لیگ کی جانب سے پیپلزپارٹی کو منانے کی ایک اور کوشش کی گئی، شہبازشریف خود چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کی نشست پر گئے اور ان سے ملاقات کی، اس موقع پر جاوید مرتضیٰ عباسی سمیت دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے تاہم شہبازشریف کی کوشش ناکام ہوئی،شہبازشریف نے بلاول بھٹو زرداری سے اپنے حق میں ووٹ دینے کی درخواست کی جس پر بلاول بھٹو زرداری نے معذرت کرلی۔دوسری جانب وزارت عظمیٰ کے دو امیدوار عمران خان اور شہباز شریف سمیت چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور شیخ رشید سمیت دیگر اراکین اسمبلی ہال میں موجود ہیںواضح رہے پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی نے وزیر اعظم کے انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کیا تھا جس کا اظہار مختلف رہنما اپنی نیوز کانفرنس میں کرتے رہے ہیں۔
”بلاول بیٹے مان جاﺅ “ہمیں ووٹ دو ،وہی ہوا جس کا ڈر تھا ،شہباز شریف کو منہ کی کھانی پڑی

