لاہور (مہران اجمل خان سے )سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں اور کالجز کے گرلز ہاسٹل میں طالبات غیر محفوظ ہو گئیں، ہسپتالوں میں پرائیویٹ سیکورٹی کمپنیوں کی ناقص کارکردگی کا بھانڈہ پھوٹ گیا،کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی گرلز ہاسٹل سے لیپ ٹاپ اور قیمتی اشیاءکا چوری ہونا معمول بن گیا،یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے معاملے کو دبانے کی کوششیں جاری ،میڈیکل کی طالبات کی جانب سے ہاسٹل وارڈن کو متعدد درخواستیں دینے کے باوجود کاروائی نہ ہو سکی، گرلز ہاسٹل سے نامعلوم افراد لیپ ٹاپ چوری کرنے کی وڈیو چینل فائیو کو موصول ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل میں چوری کی وارداتوں میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔یونیورسٹی انتظامیہ اور پرائیویٹ سیکورٹی کمپنی کی نااہلی کے باعث کو ئی بھی شخص کسی بھی وقت گرلز ہاسٹل سمیت میو ہسپتال میں کہیں بھی جا سکتا ہے ۔ چینل فائیوکو موصول ہونے والی وڈیو کے مطابق دن کے وقت دو شخص گرلز ہاسٹل میں داخل ہوتے ہیں اور گیٹ پر موجود دو خواتین گارڈ اور دو مرد گارڈ میں سے انہیں کوئی بھی نہیں روکتا اور نہ ہی ان سے ان کی شناخت معلوم کی جاتی ہے اور وہ دونوں شخص تسلی سے گرلز ہاسٹل میں چہل قدمی کرتے ہیں اور مختلف لیڈی ڈاکٹرز سے لیپ ٹاپ اور قیمتی اشیاءچوری کر کے چلے جاتے ہیں اس تمام معاملے کو متاثرہ لیڈی ڈاکٹرز کی جانب سے ہاسٹل کی وارڈ ن کو اطلاع کی گئی مگر ان کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور چوروں کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی کاروائی عمل میں نہ لائی گئی ۔کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی گرلز ہاسٹل میں آﺅٹ سورس ہونے والی سیکورٹی کمپنی کے گارڈز کی مجرمانہ غفلت کا بھانڈہ تب پھوٹا جب میو ہسپتال کے ملازم محمد عارف کی جانب سے دئیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اس نے خود دیکھا کہ دو نامعلوم شخص ہاسٹل میں داخل ہوئے ہیں اور جب اس حوالے سے ڈیوٹی پر موجود پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز سے دریافت کیا تو انہوں نے ٹھیکیدار کی جانب سے دھمکیا ں دینا شروع کردیں ۔ اس حوالے جب وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر خالد مسعود گوندل سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ وڈیو پرانی ہے جبکہ لیپ ٹاپ چوری کرنے والا شخص وہاں مزدوری کرنے آیا تھا جس سے بعد ازاں لیپ ٹاپ برآمد کر لیا گےا تھا ۔
سرکاری یونیورسٹیوں ،کالجز کے ہاسٹلز میں طالبات غیرمحفو ظ
