لاہور (خبریں، چینل۵ ویب ڈیسک) ایم جی گاڑیوں کے بڑے سکینڈل نے ایف بی آر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ غیر ملکی اور ملکی کار کمپنیوں کے دفاتر میں ہلچل کا سماں ہے اور کار کمپنیاں گزشتہ روز ایف بی آر کے اعلی حکام سے ایم جی گاڑیوں کی تفصیلات حاصل کرنے میں سرگرداں رہیں، انتہائی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پشاور زلمی کے سربراہ جاوید آفریدی ایم جی گاڑیوں کو پاکستان میں درآمد کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ان گاڑیوں کی بھاری مقدار پاکستان آنے سے قبل ہی انڈر انوئسنگ اور دیگر بے قاعدگیوں کے اسکینڈل سوشل میڈیا اور ایف بی آر حکام کی زبان پر ہیں۔ دریں اثنا یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایف بی آر حکام نے بے ضابطگیوں کے انکشافات پر گاڑیوں کے کاغذات درست قرنر دینے اور درآمد کے معاملے میں اوکے پورٹ دینے میں ہچکچاہٹ کا اظہار شروع کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو حکام کو مبینہ طور پر سینکڑوں گاڑیوں کی درآمد کی صورت میں انڈر ہینڈ کروڑوں کی آفر کی گئی ہے۔ جس پر ایف بی آر حکام تذتذب کا شکار ہیں کہ وہ یہ بوجھ کس کے کندھے پر ڈالیں، دوسری جانب بیش قیمت گاڑیوں کے خواہشمند خریداروں نے اسیکنڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد وزیر تجارت سے مطالبہ کیا ہے اس سکینڈل کی اعلی سطحی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ عوام جو اس سے قبل بھی بیش قیمت گاڑیوں کے حصول کے لیے اربوں روپے ضائع کرچکے ہیں وہ کریں۔
ایم جی (MG) گاڑیوں کا سیکنڈل،خریداروں کا وزیرتجارت سے تحقیقات کا مطالبہ،
