Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • امریکی سپریم کورٹ کی ٹرمپ کو ہیٹی اور شامی شہریوں کے عارضی تحفظات ختم کرنے کی ہدایت
    • عراق نے 50 سال سے کم عمر پاکستانی مرد زائرین کے اکیلے داخلے پر پابندی عائد کر دی
    • یو اے ای نے مزید 6 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا آن ارائیول کی سہولت متعارف کرا دی
    • خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت، ایران کا پاکستانیوں کے لیے مفت ویزوں کا اعلان
    • وینزویلا میں تباہ کن زلزلے، 700 سے زائد افراد زخمی ،ہلاکتوں کی تعداد 164 تک پہنچ گئی
    • مقامی افراد کا جنازے کا بائیکاٹ، سرگودھا کیس کے ملزم کو دفن کی جگہ دینے سے انکار
    • ایران نے 9 دن میں 4 کروڑ بیرل تیل برآمد کر دیا
    • گلگت بلتستان میں 6-k چوٹی پر برفانی تودہ گرنے سے فرانسیسی کوہ پیما جاں بحق
    • مغربی ہواؤں کا سلسلہ ملک میں داخل؛ کئی اضلاع میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی
    • پاکستان نے 435 کلومیٹر آئل پائپ لائن کی منظوری دے دی
    • جاپان کے شمالی حصے میں 6.9 شدت کا زلزلہ
    • 9 محرم آج پاکستان بھر میں مذہبی عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے
    • ڈونلڈ ٹرمپ 2026 فیفا ورلڈ کپ فائنل میں ٹرافی پیش کریں گے
    • وینزویلا میں 7.2 اور 7.5 شدت کے زلزلے، کاراکاس کے قریب عمارتوں کو نقصان
    • سالگرہ پر شوہر کے ساتھ عمرہ، نمرہ خان کا خواب پورا ہوگیا
    • ایلون مسک دنیا کے پہلے ٹریلینئر کا اعزاز کھو بیٹھے
    • ورلڈ کپ 2026: ایک ہی خاندان کے دو بھائی مختلف ممالک کی جانب سے مدمقابل
    • خطے میں حالات بہتر، کویت میں امریکی سفارتخانے کی قونصلر اور سفارتی خدمات بحال
    • گھانا کے خلاف انگلینڈ کی مایوس کن کارکردگی کالے جادو‘ کے چرچے
    • سائنسی تحقیق میں سپر ماڈل بیلا حدید کے چہرے کے خدوخال 94.35 فیصد مثالی تناسب سے ہم آہنگ قرار پائے، جسکے بعد انہیں دنیا کی خوبصورت ترین خواتین میں سرفہرست قرار دیا گیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ماں اور مہاجر نامہ سے مقبولیت حاصل کرنے والے شاعر منور رانا انتقال کرگئے

    By Khabrain Newsجنوری 15, 2024
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    نئی دہلی: عالمی شہرت یافتہ بھارتی شاعر منور رانا دل کا دورہ پڑنے کے باعث 71 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔

    اردو شاعری کی ایک توانا آواز آج ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔ دنیا کی بے ثباتی پر ان کے کہے گئے ایک شعر نے کافی مقبولیت حاصل کی تھی جو آج ان کی وفات پر زبان زد عام ہے۔

    جسم پر مٹی مَلیں گے، پاک ہوجائیں گے ہم
    اے زمیں اک دن تری خوراک ہوجائیں گے ہم 

    منور رانا ایک ہفتے سے لکھنؤ کے سنجے گاندھی پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس میں زیر علاج تھے۔ انھیں دل اور گردے کے امراض لاحق تھے۔ انھوں نے گلے کے کینسر کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کسی موقع پر اس بلند آہنگ شاعر کی آواز میں لرزش نہیں آئی۔

    جدید اردو شاعری کے روح رواں اور مشاعروں کی جان سمجھے جانے والے منور رانا 26 نومبر 1952ء کو رائے بریلی میں پیدا ہوئے۔ بعد ازاں یہ گھرانہ کلکتہ منتقل ہوگیا تھا۔

    منور رانا کی زبان فصیح و بلیغ تھی لیکن شاعری میں انھوں نے سلیس اور سادہ زبان کو ترجیح دی۔ جس میں ہندی اور اودھی زبان کے الفاظ کی آمیزش سے امر ہوجانے والا کلام ایجاد کیا۔

    منور رانا کو ماں کے رشتے پر کہی گئی شاعری کی وجہ سے عالمی شہرت ملی۔

    اے اندھیرے دیکھ لے منہ تیرا کالا ہوگیا
    ماں نے آنکھیں کھول دیں گھر میں اجالا ہوگیا

    میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں
    صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا

    کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
    میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی

    یہاں سے جانے والا لوٹ کر کوئی نہیں آیا
    میں روتا رہ گیا لیکن نہ واپس جا کے ماں آئی

    ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا
    میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے

    منور رانا کی ایک اور وجہ شہرت ان کی معروف نظم مہاجر نامہ ہے جو تقسیم ہند میں اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان جاکر بسنے والوں کا نوحہ تصور کیا جاتا ہے۔

    مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں
    تمہارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں

    کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے
    کہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں

    نئی دنیا بسا لینے کی اک کمزور چاہت میں
    پرانے گھر کی دہلیزوں کو سوتا چھوڑ آئے ہیں

    عقیدت سے کلائی پر جو اک بچی نے باندھی تھی
    وہ راکھی چھوڑ آئے ہیں وہ رشتہ چھوڑ آئے ہیں

    کسی کی آرزو کے پاؤں میں زنجیر ڈالی تھی
    کسی کی اون کی تیلی میں پھندا چھوڑ آئے ہیں

    پکا کر روٹیاں رکھتی تھی ماں جس میں سلیقے سے
    نکلتے وقت وہ روٹی کی ڈلیا چھوڑ آئے ہیں

    یقیں آتا نہیں، لگتا ہے کچّی نیند میں شائد
    ہم اپنا گھر گلی اپنا محلہ چھوڑ آئے ہیں

    ہمارے لوٹ آنے کی دعائیں کرتا رہتا ہے
    ہم اپنی چھت پہ جو چڑیوں کا جتھا چھوڑ آئے ہیں

    گلے ملتی ہوئی ندیاں گلے ملتے ہوئے مذہب
    الہ آباد میں کیسا نظارہ چھوڑ آئے ہیں

    ہم اپنے ساتھ تصویریں تو لے آئے ہیں شادی کی
    کسی شاعر نے لکھا تھا جو سہرا چھوڑ آئے ہیں

    کئی آنکھیں ابھی تک یہ شکایت کرتی رہتی ہیں
    کہ ہم بہتے ہوئے کاجل کا دریا چھوڑ آئے ہیں

    شَکر اس جسم سے کھلواڑ کرنا کیسے چھوڑے گی
    کہ ہم جامن کے پیڑوں کو اکیلا چھوڑ آئے ہیں

    ابھی تک بارشوں میں بھیگتے ہی یاد آتا ہے
    کہ ہم چھپر کے نیچے اپنا چھاتا چھوڑ آئے ہیں

    بھتیجی اب سلیقے سے دوپٹہ اوڑھتی ہوگی
    وہی جھولے میں ہم جس کو ہمکتا چھوڑ آئے ہیں

    یہ ہجرت تو نہیں تھی بزدلی شائد ہماری تھی
    کہ ہم بستر میں ایک ہڈی کا ڈھانچا چھوڑ آئے ہیں

    ہماری اہلیہ تو آ گئی ماں چھٹ گئی آخر
    کہ ہم پیتل اٹھا لائے ہیں سونا چھوڑ آئے ہیں

    مہینوں تک تو امی خواب میں بھی بڑبڑاتی تھیں
    سکھانے کے لئے چھت پر پودینہ چھوڑ آئے ہیں

    وزارت بھی ہمارے واسطے کم مرتبہ ہوگی
    ہم اپنی ماں کے ہاتھوں میں نوالہ چھوڑ آئے ہیں

    یہاں آتے ہوئے ہر قیمتی سامان لے آئے
    مگر اقبال کا لکھا ترانہ چھوڑ آئے ہیں

    ہمالہ سے نکلتی ہر ندی آواز دیتی تھی
    میاں آؤ وضو کر لو یہ جملہ چھوڑ آئے ہیں

    وضو کرنے کو جب بھی بیٹھتے ہیں یاد آتا ہے
    کہ ہم جلدی میں جمنا کا کنارہ چھوڑ آئے ہیں

    اتار آئے مروت اور رواداری کا ہر چولا
    جو اک سادھو نے پہنائی تھی مالا چھوڑ آئے ہیں

    اِدھر کا کوئی مل جائے اُدھر تو ہم یہی پوچھیں
    ہم آنکھیں چھوڑ آئے ہیں کہ چشمہ چھوڑ آئے ہیں

    محرم میں ہمارا لکھنؤ ایران لگتا تھا
    مدد مولیٰ حسین آباد روتا چھوڑ آئے ہیں

    محل سے دور برگد کے تلے نروان کی خاطر
    تھکے ہارے ہوئے گوتم کو بیٹھا چھوڑ آئے ہیں

    ہنسی آتی ہے اپنی ہی اداکاری پہ خود ہم کو
    بنے پھرتے ہیں یوسف اور زلیخا چھوڑ آئے ہیں

    ہمارا راستہ تکتے ہوئے پتھرا گئی ہوں گی
    وہ آنکھیں جن کو ہم کھڑکی پہ رکھا چھوڑ آئے ہیں

    تو ہم سے چاند اتنی بے رخی سے بات کرتا ہے
    ہم اپنی جھیل میں ایک چاند اترا چھوڑ آئے ہیں

    یہ دو کمروں کا گھر اور یہ سلگتی زندگی اپنی
    وہاں اتنا بڑا نوکر کا کمرہ چھوڑ آئے ہیں

    منور رانا ایک نڈر اور بے باک شاعر تھے۔ ان کے قلم نے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھنے والے ریاستی سلوک پر بھی صدائے احتجاج بلند کیا اور احتجاجاً ساہتیہ اکاڈمی کا قومی ایوارڈ بھی سرکار کو لوٹا دیا تھا جب کہ ایک بار یوپی اردو اکادمی کی صدارت بھی ٹھکرا چکے ہیں۔

    اردو شاعری میں ان کے فن اور کمال کے اعتراف میں منور رانا کو کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

    (1) ساہتیہ اکادمی ایوارڈ برائے اردو ادب (2014)
    (جسے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کے خلاف احتجاج کے طور پر 2015 میں واپس کردیا تھا۔)
    (2) وشِشت رِتورجا سمّان ایوارڈ
    (3) (پرمپرا کویتا پَرو، 2012ء)*
    (4) امیر خسرو ایوارڈ (2006)
    (5) میر تقی میر ایوارڈ (2005)
    (6) شہود عالم آفاقی ایورڈ (2005)، کلکتہ
    (7) غالب ایوارڈ (2005)، اُدئے پور
    (8) ڈاکٹر ذاکر حسین ایوارڈ (2005)، دہلی
    (9) سرسوتی سماج ایوارڈ (2004)
    (10) مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی ایوارڈ

    (11) سلیم جعفری ایوارڈ (1997)
    (12) دل خوش ایوارڈ (1995)
    (13) رئیس امروہی ایوارڈ (1993)، رائے بریلی
    (14) بھارتی پریشد ایوارڈ
    (15) ہمایوں کبیر ایوعلم و ادب میں نمایاں کارکردگی دکھانے

    علاوہ ازیں 2011 میں مغربی بنگال اردو اکادمی ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ منور رانا کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چار دختران اور ایک فرزند شامل ہیں۔

    اردو شعری مجموعے:

    نیم کا پھول (۱۹۹۳)، کہو ظل الٰہی سے (۲۰۰۰)،منور رانا کی سو غزلیں (۲۰۰۰)، گھر اکیلا ہوگا(۲۰۰۰)، ماں (۲۰۰۵)، جنگلی پھول (۲۰۰۸)، نئے موسم کے پھول (۲۰۰۹)، مہاجر نامہ (۲۰۱۰)، کترن میرے خوابوں کی (۲۰۱۰)

    ہندی شعری مجموعے:

    غزل گاؤں ( ۱۹۸۱)، پیپل چھاؤں( ۱۹۸۴)، مور پاؤں(۱۹۸۷)، سب اس کے لیے(۱۹۸۹)، نیم کے پھول (۱۹۹۱)، بدن سرائے(۱۹۹۶)، گھر اکیلا ہوگا(۲۰۰۰)، ماں (۲۰۰۵)، پھر کبیر(۲۰۰۷)، شادابہ(۲۰۱۲)، سخن سرائے (۲۰۱۲)۔

    نثری تصانیف:

    بغیر نقشے کا مکان(۲۰۰۰)، سفید جنگلی کبوتر(۲۰۰۵)، چہرے یاد رہتے ہیں(۲۰۰۸)، ڈھلان سے اترتے ہوئے، پھنک تال

    Khabrain News

      Keep Reading

      امریکی سپریم کورٹ کی ٹرمپ کو ہیٹی اور شامی شہریوں کے عارضی تحفظات ختم کرنے کی ہدایت

      عراق نے 50 سال سے کم عمر پاکستانی مرد زائرین کے اکیلے داخلے پر پابندی عائد کر دی

      یو اے ای نے مزید 6 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا آن ارائیول کی سہولت متعارف کرا دی

      تازہ ترین

      عراق نے 50 سال سے کم عمر پاکستانی مرد زائرین کے اکیلے داخلے پر پابندی عائد کر دی

      خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت، ایران کا پاکستانیوں کے لیے مفت ویزوں کا اعلان

      مقامی افراد کا جنازے کا بائیکاٹ، سرگودھا کیس کے ملزم کو دفن کی جگہ دینے سے انکار

      ایران نے 9 دن میں 4 کروڑ بیرل تیل برآمد کر دیا

      جاپان کے شمالی حصے میں 6.9 شدت کا زلزلہ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.