روس کا یوکرین پر اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ
روسی افواج نے یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت کئی بڑے شہروں اور صنعتی و دفاعی اہداف پر سینکڑوں ڈرونز اور میزائلوں سے ایک انتہائی شدید حملہ کیا ہے۔ یوکرائنی حکام اور فضائیہ کے مطابق، اس حملے میں مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل داغے گئے۔
صنعتی و دفاعی اہداف کو نشانہ بنانا
روسی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ان کے حملوں کا بنیادی مرکز یوکرین کی اہم دفاعی صنعتی تنصیبات، ایندھن کا بنیادی ڈھانچہ (فیول انفراسٹرکچر)، اور فوجی ہوائی اڈے تھے۔ یہ حملے کیف، دنیپرو، زاپوروزئے، کھارکیو اور سومی جیسے اہم صنعتی و عسکری علاقوں میں کیے گئے۔
تباہی اور جانی نقصان
-
جانی نقصان: یوکرائنی حکام کے مطابق ان ہولناک فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 22 شہری ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ چوتھے بڑے شہر دنیپرو میں شدید تباہی ہوئی جہاں اکیلے 16 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
-
فضائی دفاع کی کارروائی: یوکرائنی فضائیہ کا کہنا ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے مستعدی سے کارروائی کرتے ہوئے 602 ڈرونز اور 40 میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ تاہم، روس کی جانب سے داغے گئے مہلک "زرکون” ہائپرسونک میزائلوں اور "اسکندر-ایم” بیلسٹک میزائلوں کی بڑی تعداد کو روکنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
-
انفراسٹرکچر کو نقصان: کیف کے میئر وٹالی کلیٹسکو کے مطابق، میزائلوں کا ملبہ گرنے اور دھماکوں کے باعث شہر کے کئی اضلاع میں بجلی کا نظام معطل ہو گیا اور رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔
روس کا مؤقف اور صدر زیلنسکی کا ردعمل
روسی صدر ولادیمیر پوتن اور کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی یوکرین کی جانب سے روسی سرحد کے اندر اور مقبوضہ علاقوں میں کی جانے والی ڈرون بمباری کا "منظم اور مناسب جوابی سزا” ہے۔
دوسری جانب، اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے بعد یوکرائنی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ اور مغربی اتحادیوں سے پیٹریاٹ (Patriot) میزائل دفاعی نظام کی فراہمی میں فوری اضافے کا مطالبہ دہرایا ہے تاکہ بیلسٹک میزائلوں کے اس نئے خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔
