1۔ پاکستانی شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت (ٹریول ایڈوائزری)
مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص لبنان میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور اسرائیلی بمباری کے پیشِ نظر، حکومتِ پاکستان کی وزارتِ خارجہ (Foreign Office) نے اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی ایڈوائزری جاری کی ہے۔
-
فوری نکلنے کی ہدایت: ایڈوائزری میں لبنان میں مقیم تمام پاکستانی شہریوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تجارتی پروازوں (Commercial Flights) کی دستیابی تک فوری طور پر لبنان سے نکل جائیں۔
-
سفر سے گریز: پاکستانی شہریوں کو تاحکمِ ثانی لبنان کا سفر کرنے سے مکمل طور پر گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
-
سفارتخانے سے رابطہ: جو لوگ اب بھی وہاں موجود ہیں، انہیں انتہائی محتاط رہنے اور بیروت میں قائم پاکستانی سفارتخانے سے مسلسل رابطے میں رہنے کو کہا گیا ہے۔
2۔ اقوامِ متحدہ (UNSC) میں پاکستان کا شدید احتجاج اور وارننگ
حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UN Security Council) کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے اسرائیل کی جارحیت کے خلاف پاکستان کا سخت ترین موقف پیش کیا ہے۔
-
غیر قانونی قبضے اور جارحیت کی مذمت: پاکستانی مندوب نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ اسرائیل لبنان کے تقریباً 20 فیصد حصے (2000 مربع کلومیٹر) پر غیر قانونی قبضہ کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل یہاں بھی وہی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے جو اس نے دیگر مقامات پر اپنائی تھی، جس میں اندھا دھند قتلِ عام اور زبردستی لوگوں کو بے گھر کرنا شامل ہے۔
-
عالمی برادری سے فوری کارروائی کا مطالبہ: پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی اس "بے باک اور لاپرواہ” مہم کو روکنے کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات کرے۔
-
لبنانی خود مختاری کا احترام: پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ بندی پر سختی سے عمل کیا جائے اور اسرائیلی افواج فوری طور پر لبنان کی سرحد (Blue Line) سے پیچھے ہٹیں۔
3۔ نقصانات کی صورتحال
لبنان کی وزارتِ صحت اور سفارتی ذرائع کے مطابق، رواں سال مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 3,400 سے زائد افراد (جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں) جاں بحق ہو چکے ہیں، 10,000 سے زائد زخمی ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زائد شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے ان حملوں میں طبی عملے اور امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
