ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ غزہ کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا اور فلسطینی عوام کی حمایت کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
اردوان نے کہا کہ ترکیہ غزہ میں جاری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور جنگ کے خاتمے، مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ ترکیہ اس سے قبل بھی غزہ میں فوری اور جامع جنگ بندی اور فلسطینیوں کی اپنی سرزمین پر حکمرانی کی حمایت کر چکا ہے۔
ترک صدر نے حماس کے حوالے سے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں خلوص کے ساتھ پوری کر رہی ہے، جبکہ ان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جنگ اور فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کے مستقبل سے متعلق امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے پر اختلافات برقرار ہیں۔ حماس نے منصوبے کو اصولی طور پر قبول کیا ہے، تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ سے مکمل انخلا کو حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے مشروط کیا ہے۔
اردوان طویل عرصے سے فلسطینی ریاست کے قیام اور غزہ میں جنگ بندی کے حامی رہے ہیں، جبکہ ترکیہ نے غزہ کے لیے انسانی امداد اور سفارتی کوششوں میں بھی کردار ادا کیا ہے۔

