غزہ کی وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ علاقے کے 34 میں سے 22 آکسیجن اسٹیشنز بند ہوچکے ہیں، جبکہ باقی 12 اسٹیشنز بھی شدید تکنیکی اور مکینیکل مشکلات کے باعث کسی بھی وقت کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق آکسیجن اسٹیشنز اپنی گنجائش سے زیادہ کام کر رہے ہیں اور بار بار خرابیوں کا سامنا ہے، جس کے باعث اسپتالوں اور دیگر طبی مراکز کی آکسیجن کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
بحران صرف آکسیجن اسٹیشنز تک محدود نہیں۔ آکسیجن سلنڈر بھرنے والی 30 مشینوں میں سے صرف 4 فعال ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ضروری پرزوں اور مرمت کے آلات کی شدید کمی کے باعث انجینئرنگ ٹیمیں ہنگامی مرمت بھی نہیں کر پا رہیں، جس سے باقی مشینیں بھی کسی بھی وقت بند ہوسکتی ہیں۔
وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال مکمل تعطل کی جانب بڑھ رہی ہے، جس سے اسپتالوں کے ساتھ ساتھ گھروں میں آکسیجن پر انحصار کرنے والے مریضوں کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ وزارت نے فوری طور پر اسپیئر پارٹس، تکنیکی آلات اور نئی آکسیجن مشینری غزہ میں داخل کرنے کے لیے راستے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب طبی امدادی ادارے بھی ضروری ایندھن، مشینری کے پرزوں اور دیگر سامان کی قلت کے باعث غزہ کے صحت کے نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ سے خبردار کر رہے ہیں۔

