بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنوبی علاقے مالویہ نگر میں واقع ایک ریسٹورنٹ میں بدھ کی صبح لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
دہلی فائر سروس کے مطابق صبح تقریباً 9 بج کر 45 منٹ پر لیمن گرین ریسٹورنٹ میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد متعدد فائر بریگیڈ گاڑیاں موقع پر روانہ کی گئیں۔
عمارت کی نچلی منزل پر ریسٹورنٹ جبکہ بالائی منزلوں پر ہوٹل قائم تھا۔
ریسکیو حکام کے مطابق کئی افراد نے بالائی منزلوں کی کھڑکیوں سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی، مقامی لوگوں نے سڑک پر گدے بچھا دیے تھے جن کی مدد سے بعض افراد عمارت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر تقریباً 40 افراد کو عمارت سے بحفاظت نکال لیا گیا، جنہیں جنوبی دہلی کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
کئی زخمی شدید جھلسنے کے باعث زیر علاج ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی، تاہم ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ ریسٹورنٹ سے شروع ہوئی تھی۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض متاثرین غیر ملکی شہری تھے جو طبی علاج کی غرض سے دہلی آئے ہوئے تھے۔

مالویہ نگر شہر کے کئی بڑے نجی اسپتالوں کے قریب واقع ہے، جہاں بین الاقوامی مریضوں کے لیے خصوصی سہولیات موجود ہیں۔
علاقے کے سابق رکن اسمبلی سومنات بھارتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد جنوبی افریقہ کے شہریوں کی ہے.
سب ڈویژنل مجسٹریٹ جتیندر کمار نے بتایا کہ آگ لگنے کی اصل وجہ کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم غالب امکان یہی ہے کہ آگ کا آغاز ریسٹورنٹ سے ہوا۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے، حکومت نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 2 لاکھ بھارتی روپے فی خاندان مالی امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل شمالی دہلی کے مکند پور علاقے میں مبینہ ایل پی جی سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں ایک عمارت گرنے سے 11 افراد زخمی ہوگئے تھے۔
جبکہ گزشتہ ہفتے ساکیت کے علاقے میں عمارت گرنے کے حادثے میں 6 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
