پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تجارت میں مالی سال 2025-26 کے دوران معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ سعودی عرب کو پاکستانی برآمدات میں کمی رہی۔ دستیاب اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق، مالی سال 2025-26 میں سعودی عرب کے لیے پاکستان کی برآمدات تقریباً 3 فیصد کم ہو کر 682.56 ملین ڈالر رہ گئیں، جو گزشتہ مالی سال میں 706.04 ملین ڈالر تھیں۔
دوسری جانب سعودی عرب سے پاکستان کی درآمدات میں اضافہ ہوا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارتی توازن پاکستان کے حق میں مزید دباؤ کا شکار رہا۔ مجموعی طور پر خلیجی خطے سے پاکستان کی تجارت پر بھی جغرافیائی سیاسی صورتحال، علاقائی کشیدگی اور توانائی کی درآمدات میں اتار چڑھاؤ کے اثرات نمایاں رہے۔
مالی سال کے دوران پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ کو مجموعی برآمدات 2 فیصد سے زائد کمی کے بعد تقریباً 3.093 ارب ڈالر رہیں، جبکہ خطے سے درآمدات تقریباً 4 فیصد کم ہو کر 16.413 ارب ڈالر رہیں۔ اس کے باوجود سعودی عرب سے درآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی بڑھانے اور برآمدات میں تنوع پیدا کرنے کی ضرورت برقرار ہے۔ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے برآمدی مصنوعات کی مسابقت، مارکیٹ رسائی اور تجارتی سہولت کاری اہم عوامل بن سکتے ہیں۔

