ملتان (خصوصی رپورٹر) این ایف سی یونیورسٹی ملتان میں پروفیسر ڈاکٹر شبر عتیق کے وائس چانسلر کا منصب سنبھالنے کے بعد ادارے میں ہل چل ، نئے وی سی کے آنے کے بعد ادارے میں نظم و ضبط، انتظامی معاملات اور مختلف شعبہ جات کی کارکردگی کا جائزہ لیے جانے کے ساتھ ساتھ بعض اہم عہدوں پر موجود شخصیات کی جانب سے استعفوں نے بھی کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے
۔ یونیورسٹی کے تعلیمی حلقوں میں حالیہ دنوں کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نعیم اسلم کے استعفے کو خاص طور پر زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نئے وائس چانسلر نے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد مختلف شعبہ جات کی کارکردگی اور انتظامی معاملات کا جائزہ لینا شروع کیا تو کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ سے متعلق بھی بعض شکایات اور تحفظات ان کے علم میں لائے گئے۔ ذرائع کے مطابق ان میں شعبے کی تعلیمی پیش رفت، ایکریڈیشن، فیکلٹی مینجمنٹ اور طلبہ سے متعلق بعض شکایات شامل تھیں۔ یونیورسٹی کے بعض حلقوں میں یہ سوال بھی شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ نے متعلقہ کمپیوٹر ایکریڈیشن کونسل سے مطلوبہ ایکریڈیشن کے حصول کے لیے ماضی میں کیا اقدامات کیے اور اس معاملے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی کمپیوٹنگ پروگرام کی ساکھ اور طلبہ کے مستقبل کے لیے ایکریڈیشن بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی میں بعض طلبہ کی جانب سے یہ شکایات بھی گردش کر رہی ہیں کہ ماضی میں۔ ایک اور شعبہ میں تھیسسز کمپوزنگ، پرنٹنگ اور دیگر تعلیمی معاونت کے نام پر مبینہ طور پر رقوم وصول کی جاتی تھیں۔ بعض ذرائع نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وزٹنگ فیکلٹی سے متعلق بعض معاملات میں مبینہ مالی لین دین یا کمیشن کی شکایات موجود تھیں۔ اس لیے ضروری تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ ان شکایات کی باضابطہ تحقیقات کرائے، متعلقہ طلبہ اور اساتذہ کے بیانات قلم بند کرے اور اگر کوئی مالی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ایک سابق استاد کے بارے میں بھی یونیورسٹی حلقوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ انہیں مبینہ طور پر ترقی کے مناسب مواقع نہیں مل سکے اور بعد ازاں وہ محمد نواز شریف یونیورسٹی منتقل ہوگئے جہاں انہیں فل پروفیسر کا عہدہ حاصل ہوا۔ اگر یہ معاملہ درست ہے تو یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ایک ہی استاد دوسری یونیورسٹی میں بہتر پیشہ ورانہ ترقی حاصل کرسکتا ہے تو سابق ادارے میں اس کی ترقی کے راستے میں کیا رکاوٹیں موجود تھیں۔ پروفیسر ڈاکٹر شبر عتیق کے حامی تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ نئے وائس چانسلر نے کسی فرد کو محض عہدے یا سابقہ اثر و رسوخ کی بنیاد پر تحفظ دینے کے بجائے ادارے کی کارکردگی کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا ہے۔ ان حلقوں کے مطابق اگر کسی شعبے، عہدے دار یا استاد کے خلاف شکایات موجود ہیں تو ان کی بنیاد پر شفاف انکوائری ہونی چاہیے اور جو شخص قصوروار ثابت ہو اسے قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے، جبکہ بے گناہ شخص کو بھی الزامات سے بری کیا جانا چاہیے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ این ایف سی آئی ای ٹی کی سرکاری ویب سائٹ ادارے کو ایک وسیع تعلیمی ادارے کے طور پر پیش کرتی ہے، جہاں کمپیوٹر سائنس سمیت تقریباً 20 تعلیمی شعبے اور 200 پی ایچ ڈی و ایم ایس اسکالر فیکلٹی کا ذکر موجود ہے۔ اس پس منظر میں کسی ایک شعبے کی ایکریڈیشن، فیکلٹی استحکام یا انتظامی کارکردگی سے متعلق سوالات کو معمولی معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ ان کا براہ راست تعلق ادارے کی تعلیمی ساکھ اور طلبہ کے مستقبل سے بنتا ہے۔ یونیورسٹی کے بعض حلقوں نے پروفیسر ڈاکٹر شبر عتیق کی جانب سے انتظامی معاملات کو سختی سے دیکھنے اور مبینہ طور پر غیر مؤثر انتظامی طریقہ کار کو تبدیل کرنے کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے میں طویل عرصے سے موجود مسائل کا حل کسی ایک شخصیت کے خلاف مہم نہیں بلکہ میرٹ، شفافیت اور احتساب میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے وائس چانسلر کو چاہیے کہ وہ تمام شکایات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔ ڈاکٹر نعیم اسلم کے استعفے کی اصل وجوہات، کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کی ایکریڈیشن کی مکمل صورتحال، طلبہ کی مبینہ شکایات اور وزٹنگ فیکلٹی سے متعلق چہ میگوئیاں جاری ہے۔جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ ڈاکٹر نعیم اسلم نے بہتر آپشن ملنے پر استعفیٰ دیا یے۔ باقی کچھ نہیں۔ جبکہ ارکیٹیکچر ڈیپارٹمنٹ میں ہونے والے فراڈ اور دھوکہ دہی کے حوالے سے انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس بارے انکوائری کمیٹی نے رپورٹ مرتب کرلی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر مہوش زہرہ، سبجیکٹ ٹیچر ڈاکٹر عدنان اور کنٹرولر رسول بارے انکوائری رپورٹ سینڈیکیٹ میں پیش کی جائے گی۔ کیونکہ سینڈیکیٹ سزا دینے کی مجاز اتھارٹی ہے۔ ادھر ملتان کی ایک یونیورسٹی کے سنئیر پروفیسر جو وی سی بھی رہ چکے ہیں۔ اس معاملے پر نام شائع نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ بیرون ملک بیٹھے طالبعلم کی جگہ دوسرے طالبعلم کو بٹھا کر پیپر دلوانا یونیورسٹی کا سنگین ترین جرم ہے جس کی سزا پیپر میں بٹھانے والے سربراہ اور سبجیکٹ ٹیچر کے لیے ملازمت سے برخاستگی ہے۔ جبکہ کنٹرولر امتحانات کی نا اہلی پر ان کو تاحیات کسی بھی انتظامی عہدے کے لیے نا اہل قرار دیا جانا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں پروفیسر ڈاکٹر شبر عتیق کو گزشتہ کئی عشروں سے جانتا ہوں وہ ایک ایماندار آفیسر ہیں۔ اور وہ کرپشن، فراڈ اور دھوکہ دہی بالکل برداشت نہیں کرتے۔
این ایف سی
بریکنگ نیوز
- نیتن یاہو کا بڑا دعویٰ، جنوبی شام میں اسرائیل کا مکمل کنٹرول
- انتظامی افسروں کے استعفوں سے نیا پنڈورا باکس کھل گیا
- حوثیوں کا بڑا حملہ، یمن کے اہم ساحلی شہر موخا پر قبضہ
- جوہر ٹاون کی نئی سڑک اچانک بڑا گڑھا بن گیا
- پنجاب بھر کے میزاروں کی کیش کشادگی میں ماہانہ کروڑوں روپے کی خوردبرد کا سلسلہ جاری
- فن ایلن کی میلبورن اسٹارز میں بڑی ڈیل بی بی ایل کی سب سے بڑی سائننگ
- فیصلوں میں تاخیر پولیس کی لوٹ مار عوام اپنی عدالتیں لگا کر سزائیں دینے لگے
- ماں بچہ صحت پروگرام کےبعد کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام بھی بحران کا شکار
- دھرنوں کے دوران حکومت نے راطہ کیا ہم نے معذرت کی حافظ نعیم الرحمن
- نیپال چین سرحد پر سیلاب ہلاکریںہلاکتیں 1410تک پہنچ گیئں سے 5,650 ذائد لا نپتہ
- پاکستان نے آخری میچ میں ہانگ کانگ کو 72 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی
- پنجاب ‘ سموگ سیزن سے قبل آلودگی کیخلاف کارروائیاں سخت کرنیکا فیصلہ
- این اے 168 ضمنی انتخاب، 20 امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ
- جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس شروع، کثیرالجہتی نظام پر اعتماد کی بحالی ترجیح قرار
- حکمران عوام کو ایسے لوٹ رہے ہیں جیسے منگولوں نے بغداد کو لوٹا تھا، فواد چودھری
- الیکشن کمیشن ،مالی گوشوارے جمع نہ کرانے پر صاحبزادہ حامد رضا، عبدالطیف اور زرتاج گل نااہل قرار
- 26نومبر احتجاج کیس، وزیرِ اعلی کے پی سہیل آفریدی سمیت دیگر کے وارنٹ برقرار
- بی او پی کے شیئرہولڈرز کی 30 ارب روپے کے ایکویٹی انجکشن کی منظوری
- یش ٹھاکر افغانستان سیریز اور ایشین گیمز کیلئے بھارتی اسکواڈ کا حصہ بن گئے
- ٹرمپ کا بڑا اعلان، ریپبلکن کامیاب ہوئے تو ہر بالغ امریکی کو 5 ہزار ڈالر
