لاہور (کامرس رپورٹر)دی بینک آف پنجاب کے شیئر ہولڈرز نے غیرمعمولی جنرل اجلاس میں حکومتِ پنجاب (“GoPb”) کی جانب سے
رائٹس ایشو کے بجائے عام حصص کے اجرا کے ذریعے 30 ارب روپے تک کے ایکویٹی انجکشن کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب ظفر مسعود نے شیئر ہولڈرز کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیے، جن پر شیئر ہولڈرز نے اطمینان کا اظہار کیا۔بی او پی اس وقت پاکستان کے دس بڑے بینکوں میں سب سے کم کیپیٹلائزڈ بینک ہے، جس کا ٹئیر-1 کیپیٹل 99.9 ارب روپے جبکہ مجموعی اثاثے 2,952ارب روپے ہیں۔ مکمل ایکویٹی انجکشن کے بعد بھی بینک کی پوزیشن نویں رہے گی۔ کسی بھی بینک کی بیلنس شیٹ میں اضافے کی صلاحیت کا انحصار اس کے ٹئیر۔1کیپیٹل کی مضبوطی اور کم لاگت والے ڈپازٹس متحرک کرنے کی صلاحیت، دونوں پر ہوتا ہے۔ یہ دونوں عوامل ایک دوسرے سے منسلک ہیں کیونکہ قابلِ اطلاق کیپیٹل ایڈیکویسی اور لیوریج کی شرائط کے تحت ڈیپازٹس کو صرف آمدنی پیدا کرنے والے اثاثوں میں ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔لہٰذا اضافی ایکویٹی بی او پی کو اپنے کارپوریٹ، کمرشل، ایس ایم ای، زرعی، ہاؤسنگ، ڈیجیٹل اور اسلامی بینکاری کے کاروبار کے ساتھ ساتھ مجوزہ بیرونِ ملک ہول سیل بینکاری یونٹ میں بھی بڑے ڈپازٹ بیس کو محفوظ اور مؤثر انداز میں متحرک اور استعمال کرنے کے قابل بنائے گی۔ اس سے بینک کی بڑے بینکوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی مضبوط ہوگی، بالخصوص کم لاگت والے ڈیپازٹس کے حصول میں۔حکومتِ پنجاب کا یہ فیصلہ ایسے بینک پر اس کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو صوبائی خزانے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ بی او پی نے 2021 سے اب تک 15 ارب روپے سے زائد کے منافع کی مد میں ڈویڈنڈ ادا کیا ہے، جس میں صرف 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران 3 ارب روپے شامل ہیں۔ اسی عرصے کے دوران حکومتِ پنجاب کی سرمایہ کاری کی قدر میں تقریباً سات گنا اضافہ ہوا، جبکہ 2025 میں بی او پی ایشیا میں بہترین کارکردگی دکھانے والا بینکنگ سٹاک رہا۔مجوزہ ایکویٹی انجکشن عمومی کاروباری ترقی کے لیے سرمایہ ہے۔ اس سرمائے کے تمام استعمال، بشمول حکومتی اداروں سے متعلق کاروبار، بینک کے معمول کے کریڈٹ، رسک، پرائسنگ اور منافع بخش ہونے کے معیارات کے تابع رہیں گے۔اس حجم کے رائٹس ایشو کے لیے تمام شیئر ہولڈرز سے نئے سرمائے کی ضرورت ہوتی اور سبسکرپشن، ٹائمنگ اور تکمیل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوسکتی تھی۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حالیہ رائٹس ایشوز میں تقریباً 80 فیصد رعایت پر پرائسنگ کیے گئے۔ نومبر 2024 سے اب تک ہونے والے 10 رائٹس ایشوز میں سے صرف دو کو پریمیم پر پرائسنگ کیا گیا، اور دونوں کا حجم بی او پی کی مجوزہ پیشکش کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھا۔حکومتِ پنجاب کی جانب سے براہِ راست سبسکرپشن سے سرمایہ کی مقدار، وقت اور عمل درآمد کے حوالے سے زیادہ یقین دہانی حاصل ہوتی ہے۔ یہ شیئرز مارکیٹ پرائس اور بریک اَپ ویلیو دونوں کے مقابلے میں پریمیم پر جاری کیے جائیں گے، جس کے نتیجے میں نئے شیئرز کی تعداد کم اور ڈائلیوشن بھی کم ہوگا۔ اقلیتی شیئر ہولڈرز کو اضافی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم وہ بہتر کیپیٹلائزڈ بینک کے فوائد میں مکمل طور پر شریک ہوں گے۔
