لاہور(جنرل رپورٹر)ماں بچہ صحت پروگرام کے بعد کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام بھی بحران کا شکار ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق ماں بچہ صحت پروگرام کی جگہ شروع کیا جانے والا کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام بھی ایک سال گزرنے کے باوجود مطلوبہ ہیومن ریسورس حاصل نہ کرسکا جس کے باعث پروگرام کی افادیت اور بنیادی صحت کی سہولیات کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق ماں بچہ
صحت پروگرام کے ہزاروں ملازمین کو فارغ کرکے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام شروع کیا گیا، تاہم پنجاب بھر میں تاحال مطلوبہ تعداد میں موزوں امیدوار دستیاب نہیں ہوسکے۔ محکمہ صحت نے ایک مرتبہ پھر 20 ستمبر تک سی ایچ آئی کے عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کرلی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چارج نرس، لیڈی ہیلتھ وزیٹر اور مڈوائف کورس کی حامل خواتین کو کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر کے لیے اہل قرار دیا گیا ہے تاہم مطلوبہ قابلیت اور دستیاب امیدواروں کے درمیان فرق کے باعث بھرتی کا عمل مشکلات کا شکار ہے۔ ہیومن ریسورس نہ ملنے پر بعض ٹھیکیدار بھی پروگرام سے الگ ہوچکے ہیں۔محکمہ صحت کی جانب سے ماں بچہ صحت، حفاظتی ٹیکوں اور وبائی امراض کی روک تھام کے لیے کمیونٹی سطح پر خدمات بہتر بنانے کے دعووں کے باوجود سی ایچ آئی پروگرام کی سست رفتاری نے حکومتی منصوبہ بندی پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فیلڈ میں مطلوبہ عملہ نہ ہونے سے بنیادی صحت عامہ کی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں تربیت یافتہ کارکنوں کو فارغ کرنے سے قبل متبادل نظام کے لیے مطلوبہ ہیومن ریسورس یقینی بنانا ضروری تھا، بصورت دیگر پروگرام کی تبدیلی کا براہ راست نقصان عوامی صحت کو پہنچ سکتا ہے۔
