لاہور (خبر نگار)پنجاب بھر کے مزارات کی کیش کشادگی میں ماہانہ کروڑوں روپے کی مبینہ خوردبرد کا
سلسلہ تاحال جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے، ذرائع کے مطابق نذرانوں کی بھاری آمدن رکھنے والے اہم مزارات میں کیش کشادگی اور گنتی کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ بعض نگرانوں اور منیجران کے درمیان مبینہ مالی معاملات اب اینٹی کرپشن کی ممکنہ کارروائیوں تک جا پہنچے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متعدد نگرانوں نے اپنے منیجران کے خلاف اینٹی کرپشن کے ذریعے کارروائی کرانے کے لیے خفیہ پلان تیار کرلیا ہے اور کئی کیسز میں مبینہ طور پر انہیں رنگے ہاتھوں پکڑانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق لاہور، فیصل آباد، پاکپتن، ملتان، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور اور کوٹ مٹھن سمیت پنجاب کے بڑے اور اہم مزارات پر روزانہ بھاری نذرانہ جمع ہوتا ہے، تاہم کیش کشادگی کے دوران مبینہ طور پر ایسا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جس سے اصل رقم، ریکارڈ شدہ رقم اور بینک میں جمع ہونے والی رقم کے درمیان فرق کی گنجائش پیدا ہوجاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر کیش بکس نگرانوں کے سامنے کھولے جانے کے باوجود کیش کی مکمل گنتی نگرانوں کے سامنے نہیں کی جاتی بلکہ انہیں مبینہ طور پر وہاں سے چلے جانے کا کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں اگر کیش میں کمی ظاہر کی جائے تو نگرانوں سے مبینہ طور پر رقم پوری کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ بعض نگرانوں سے رقم وصول کرکے معاملہ ختم کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر فارم نمبر 4 پر نگرانوں کے دستخط خود کرنے یا مبینہ طور پر دستخطوں کی نقل تیار کرنے کی شکایات بھی موجود ہیں، جس کے باعث مالی ریکارڈ کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مظفرگڑھ میں ماضی قریب میں منیجر کریم نواز کے خلاف اینٹی کرپشن کی کارروائی اور گرفتاری کے بعد اب دیگر مزارات کے معاملات بھی زیرنگرانی آنے کا امکان ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آنے والے دنوں میں پنجاب بھر کے متعدد مزارات کے منیجران اینٹی کرپشن کے شکنجے میں آسکتے ہیں۔اوقاف کے مزارات کی کروڑوں روپے کی ماہانہ آمدن کے حوالے سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیش کشادگی سے لے کر گنتی، فارم نمبر 4کی تکمیل، رقم بینک میں جمع کرانے اور روزانہ حساب کتاب تک پورے عمل کو کیمروں کی نگرانی، مشترکہ دستخط اور ڈیجیٹل ریکارڈ کے ذریعے شفاف کیوں نہیں بنایا جاتا؟ذرائع کے مطابق اگر پنجاب کے تمام اہم مزارات کی گزشتہ چند سال کی کیش کشادگی، فارم نمبر 4، بینک سٹیٹمنٹس اور روزانہ کیش ریکارڈ کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے تو مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی اصل تصویر سامنے آسکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اینٹی کرپشن صرف منیجران تک پہنچتی ہے یا مزارات کی کیش کشادگی کے پورے نظام، نگرانوں اور دیگر ذمہ دار اہلکاروں کا بھی احتساب کیا جاتاہے۔
