حوثی حملے سعودی عرب تک پھیلے تو مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہوگا: پاکستان
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے خبردار کیا ہے کہ اگر یمن میں جاری تنازع یا حوثیوں کے حملے سعودی عرب تک پھیلتے ہیں تو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ فعال ہوسکتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح جارحیت کو تمام ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان معاہدے کی شرائط کا پابند ہے اور ضرورت پڑنے پر ان پر عمل کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثی گروپ نے جنوبی سعودی عرب کے مختلف علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ سعودی حکام کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے اور تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مکہ مکرمہ میں طے کیا تھا۔ معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاع اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں پر حملے کے مترادف ہوگا۔
خواجہ آصف کے مطابق اگر یمن کی صورتحال سعودی سرزمین تک پہنچتی ہے تو معاہدے کی دفاعی شقیں عملی شکل اختیار کرسکتی ہیں۔ پاکستان نے ساتھ ہی سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
دریں اثنا، حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب نے اپنی دفاعی تیاری بڑھا دی ہے، جبکہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث یمن کا تنازع ایک مرتبہ پھر وسیع علاقائی محاذ اختیار کرنے کا خدشہ پیدا کر رہا ہے۔

