سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر مشتاق احمد نے قومی کرکٹ ٹیم میں مسلسل تبدیلیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹیم مینجمنٹ اور فیصلہ سازی پر سوالات اٹھا دیے۔مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ جس نوعیت کے فیصلے پاکستان کی قومی ٹیم کے ساتھ کیے جا رہے ہیں، ایسے فیصلے تو ’’محلے کی کرکٹ‘‘ میں بھی عام طور پر نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر ٹیم کے معاملات میں تسلسل اور بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔سابق اسپنر کے مطابق بار بار کی تبدیلیوں سے ٹیم کے استحکام اور کارکردگی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی اور سلیکشن کے فیصلے پہلے ہی تنقید کی زد میں ہیں، ایسے میں مشتاق احمد کے بیان نے قومی ٹیم کی سمت اور مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
مشتاق احمد کا قومی ٹیم کے فیصلوں پر اعتراض

