پاکستان کرکٹ ٹیم کے عبوری ریڈ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے سابق کپتان سلمان علی آغا کے کنگ چارلس سوم سے ملاقات میں شریک نہ ہونے سے متعلق خبروں اور قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا ہے۔
پاکستانی اسکواڈ نے 2 ستمبر کو لندن میں کلیئرنس ہاؤس میں کنگ چارلس سے ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر بابر اعظم سمیت ٹیم کے کھلاڑیوں اور آفیشلز نے شرکت کی، جبکہ بابر اعظم نے تمام کھلاڑیوں کے دستخط شدہ بیٹ کا تحفہ بھی پیش کیا۔
سلمان علی آغا کی عدم موجودگی اس لیے توجہ کا مرکز بنی کیونکہ انہیں دوسرے ٹیسٹ کے بعد پاکستان کے تیسرے ٹیسٹ اسکواڈ سے ریلیز کیے گئے سات کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا تھا۔ ان کی غیرحاضری پر یہ قیاس آرائیاں سامنے آئیں کہ شاید انہوں نے پی سی بی سے ناراضی کے باعث کنگ چارلس سے ملاقات میں شرکت سے انکار کیا۔
مائیک ہیسن نے ان قیاس آرائیوں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سلمان علی آغا، محمد رضوان اور امام الحق کو ان کے ٹیم سے ریلیز ہونے کے وقت ہی آگاہ کردیا گیا تھا کہ وہ شاہی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔ ہیسن کے مطابق یہ فیصلہ ان کے ٹیم کا چارج سنبھالنے سے پہلے ہوچکا تھا۔
ہیسن نے کہا کہ تقریب کے شرکا کی فہرست میں آخری وقت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی اور اسکواڈ کے باقی ارکان پہلے ہی فہرست میں شامل تھے۔ انہوں نے میڈیا رپورٹس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’لوگ اپنی کہانیاں بنا رہے ہیں‘‘ اور کسی نے معاملے کو غلط انداز میں پیش کیا ہے۔
پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچز میں شکست کے بعد اسکواڈ اور کوچنگ اسٹاف میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ سات کھلاڑیوں کو ریلیز کیا گیا جبکہ سرفراز احمد کی جگہ مائیک ہیسن کو تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے لیے ریڈ بال ٹیم کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
تیسرا ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا، جہاں پاکستان تین میچوں کی سیریز میں 0-2 کے خسارے کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔

