امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق امریکی فورسز نے 5 ستمبر 2026 کو تین ایرانی خام تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے خطے میں گشت کرنے والے دو امریکی بحری جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغنے کے بعد کی گئی۔
CENTCOM کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں میں ایک امریکی ایئرکرافٹ کیریئر اور ایک گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم دونوں امریکی بحری جہاز حملوں سے محفوظ رہے اور کسی امریکی اہلکار کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
امریکی حکام کے مطابق تینوں ٹینکرز کو ایران کے IRGC سے منسلک آئل نیٹ ورک کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ دو ٹینکرز کو مستقل طور پر ناکارہ بنایا گیا، جبکہ تیسرے خالی آئل ٹینکر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق کارروائیاں خَرگ جزیرے، جاسک کے قریب اور خلیجِ عمان میں کی گئیں۔ خَرگ جزیرہ ایران کا ایک اہم تیل برآمدی مرکز ہے، جس کی وجہ سے اس حملے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
CENTCOM کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکی بحری جہازوں پر حملے کی صورت میں ایران کو اس سے بھی زیادہ معاشی نقصان اٹھانا پڑے گا، اور واشنگٹن نے اپنے اس اقدام کو امریکی افواج کے دفاع کے تناظر میں پیش کیا ہے۔
ایرانی میڈیا نے بھی خَرگ جزیرے کے قریب ایک آئل ٹینکر کو امریکی حملے میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی، جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ٹینکرز کے عملے کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا اور جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ تازہ کارروائی امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی میں مزید اضافے کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور خلیجِ عمان میں تیل کی عالمی ترسیل پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
اہم وضاحت: امریکی دعوے کے مطابق تین ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا؛ دو کو مستقل طور پر ناکارہ اور ایک کو تباہ کیا گیا۔ اس لیے سرخی میں "3 آئل ٹینکرز پر حملہ” کہنا زیادہ درست ہے، بجائے اس کے کہ تینوں کو "تباہ” قرار دیا جائے۔

