انڈونیشیا کے فعال آتش فشاں ماؤنٹ آناک کراکاٹاؤ کے پھٹنے کے بعد فضائی حدود میں پھیلنے والی آتش فشانی راکھ کے باعث جکارتہ کے مرکزی سوئیکارنو ہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن عارضی طور پر معطل کردیا گیا۔
حکام کے مطابق آناک کراکاٹاؤ میں جمعہ کی رات سے سرگرمی جاری تھی، جبکہ اتوار کی صبح آتش فشاں سے اٹھنے والی راکھ ایئرپورٹ کے قریب فضائی حدود میں بھی پہنچ گئی۔ راکھ کی موجودگی طیاروں کے انجن اور دیگر اہم حصوں کے لیے خطرناک ہوسکتی ہے، اسی وجہ سے پروازیں روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ابتدائی طور پر ایئرپورٹ آپریشن صبح 5:30 بجے تک معطل کیا گیا تھا، بعد ازاں بندش میں توسیع کرکے 9:30 بجے تک کردیا گیا۔ بعد کی اطلاعات کے مطابق آپریشن کی معطلی مزید بڑھا کر دوپہر 1:30 بجے تک کردی گئی۔
انڈونیشیا کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق اس صورتحال سے 209 پروازیں متاثر ہوئیں، جن میں متعدد بین الاقوامی پروازیں بھی شامل ہیں۔ تقریباً 22 ہزار سے زائد مسافر اس خلل سے متاثر ہوئے۔
آتش فشانی راکھ کا پھیلاؤ صرف جکارتہ تک محدود نہیں رہا بلکہ جاوا، سماٹرا اور بینٹن کے بعض علاقوں میں بھی راکھ کے بادل دیکھے گئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق راکھ کا بادل بعض مقامات پر 50 ہزار فٹ تک بلند ہوا۔
آتش فشاں کے باعث بعض اسکولوں کی سرگرمیاں بھی منسوخ کی گئیں جبکہ مقامی افراد نے آنکھوں میں جلن کی شکایات کیں۔ ماہی گیروں نے بھی حفاظتی خدشات کے باعث سمندر میں جانے سے گریز کیا۔ حکام نے شہریوں کو ماسک اور آنکھوں کی حفاظت کا سامان استعمال کرنے اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال سونامی کا کوئی فوری خطرہ نہیں، تاہم آناک کراکاٹاؤ کی سرگرمی پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
آناک کراکاٹاؤ جاوا اور سماٹرا کے درمیان سنڈا آبنائے میں واقع ہے اور 1883 کے تباہ کن کراکاٹاؤ آتش فشاں کے بعد وجود میں آیا تھا۔ 2018 میں بھی اس آتش فشاں کی سرگرمی کے نتیجے میں آنے والے سونامی سے سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

