آبنائے ہرمز میں بحران، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر کے قریب
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت ایک بار پھر تیزی سے بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل تقریباً 97 سے 98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے، جو تقریباً چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ خلیج میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کو درپیش خطرات اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا انتہائی اہم راستہ ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی ترسیل جنگ سے قبل تقریباً 18 ملین بیرل یومیہ تھی، جو اب کم ہو کر تقریباً 11 ملین بیرل یومیہ رہ گئی ہے۔
مارکیٹ میں قیمتوں کے مزید بڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل طویل عرصے تک متاثر رہی تو برینٹ خام تیل 100 ڈالر سے اوپر جا سکتا ہے، جبکہ گولڈمین سیکس نے شدید خلل کی صورت میں اس کے 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
تاہم بعض عوامل نے تیل کو ابھی 100 ڈالر سے اوپر جانے سے روکا ہوا ہے۔ خلیجی ممالک متبادل راستوں سے تیل کی برآمد جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ امریکا، کینیڈا اور گیانا سمیت بعض غیر اوپیک ممالک کی پیداوار میں اضافے سے عالمی سپلائی کے دباؤ کو جزوی طور پر کم کیا جا رہا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات اور عالمی معیشت پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

