ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اگر پاکستان، سعودی عرب یا ترکیہ میں سے کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو تینوں ممالک مل کر اس کے جواب کا فیصلہ کریں گے اور طے شدہ لائحہ عمل کے مطابق کارروائی کریں گے۔
الجزیرہ/العربیہ سے گفتگو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ معاہدے کی آپریشنل تفصیلات منظرعام پر نہیں لائی جائیں گی کیونکہ فوجی کارروائیوں اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق معلومات خفیہ ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی ممکنہ حملے پر ردعمل تینوں ممالک باہمی مشاورت سے طے کریں گے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مکہ دفاعی معاہدے کو خالصتاً دفاعی نوعیت کا معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد اجتماعی دفاع اور باز رکھنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے میں کوئی جارحانہ یا علاقائی توسیع کا مقصد شامل نہیں۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست 2026 میں طے کیا تھا۔ بعد ازاں تینوں ممالک نے اس معاہدے کے تحت سیاسی، دفاعی اور تزویراتی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کیلئے استنبول میں پہلی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس بھی کیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کو حالیہ دنوں میں حوثی حملوں کا سامنا ہے، جبکہ سعودی حکام کے مطابق مکہ مکرمہ کے قریب ایک حوثی ڈرون کو بھی سعودی دفاعی نظام نے تباہ کیا ہے۔ حوثی فریق نے مکہ کو نشانہ بنانے کے سعودی دعوے کی تردید کی ہے۔

