واشنگٹن (این این آئی) امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے اعلیٰ ڈیموکریٹ رکن گریگوری میکس نے اسرائیل کو 2 ہزار پائونڈ وزنی بموں کی فروخت کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ عرب ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اسرائیل کو تقریباً 2.8 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ اور گولہ بارود فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں 2 ہزار پائونڈ وزنی بم بھی شامل ہیں۔ گریگوری میکس نے کہا کہ وہ اس مجوزہ فروخت کی حمایت نہیں کریں گے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ ہتھیار بین الاقوامی قانون کے مطابق استعمال نہیں کیے جائیں گے۔ تاہم ان کا اعتراض اکیلے اسلحے کی فروخت روکنے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ بڑی دفاعی فروخت پر کانگریس کی کمیٹیوں کی جانب سے جائزے کا یہ عمل غیر رسمی نوعیت کا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق مجوزہ پیکیج میں 20 ہزار ایم کے 84 اور 20 ہزار بی ایل یو-117 بم شامل ہیں، دونوں 2 ہزار پائونڈ وزنی بموں کے زمرے میں آتے ہیں۔ امریکی اخبار اور دیگر ذرائع کے مطابق پیکیج میں آئی-2000 پینیٹریٹر وارہیڈز بھی شامل کیے جانے کی اطلاع ہے۔ یہ منصوبہ ابھی حتمی طور پر فروخت کے لیے پیش نہیں ہوئے ہیں بلکہ امریکی انتظامیہ نے اس بارے میں متعلقہ کانگریسی کمیٹیوں کو غیر رسمی طور پر آگاہ کیا ہے۔ 2 ہزار پائونڈ وزنی بم پہلے بھی غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں استعمال ہوتے رہے ہیں جس پر انسانی حقوق کے ماہرین اور دیگر حلقوں کی جانب سے شہری علاقوں میں ان کے استعمال کے حوالے سے تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے۔ سابق امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے 2024 میں 2 ہزار پائونڈ وزنی بموں کی ایک کھیپ کی ترسیل روک دی تھی۔ نئی مجوزہ فروخت میں اس نوعیت کے ہتھیاروں کی بڑی تعداد شامل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکا میں بڑی دفاعی فروخت کے معاملے میں کانگریس کی متعلقہ کمیٹیاں انتظامیہ کے منصوبوں کا جائزہ لے سکتی ہیں۔ تاہم موجودہ غیر رسمی جائزے کے طریقہ کار کے تحت کسی ایک کمیٹی رکن یا رہنما کا اعتراض خود بخود فروخت کو روک نہیں دیتا۔ اس لیے گریگوری میکس کی مخالفت کے باوجود مجوزہ پیکیج کو آگے بڑھانے کا اختیار امریکی انتظامیہ کے پاس موجود ہے، جبکہ حتمی منظوری اور فروخت کے مراحل امریکی قوانین اور متعلقہ حکومتی طریقہ کار کے تحت مکمل ہوں گے۔
