دبئی دنیا کے ان شہروں میں شامل ہوگیا ہے جہاں گھر خریدنا نسبتاً سستا ہے۔ سوئس بینک یو بی ایس (UBS) کی گلوبل ریئل اسٹیٹ ببل انڈیکس 2026 کے مطابق دبئی میں اوسط آمدن رکھنے والے شخص کو شہر کے مرکز کے قریب 60 مربع میٹر کا اپارٹمنٹ خریدنے کے لیے تقریباً 5 سال کی آمدن درکار ہوتی ہے۔ یہ 23 بڑے عالمی شہروں میں کم ترین مدت میں شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ میں اسی نوعیت کا گھر خریدنے کے لیے تقریباً 15 سال، جبکہ لندن میں 11 سال کی اوسط آمدن درکار ہوتی ہے۔ ٹوکیو، پیرس اور سیول میں بھی ایک جیسے گھر کے لیے 10 سال سے زیادہ آمدن درکار ہے۔
دبئی قیمت اور کرائے کے تناسب کے اعتبار سے بھی سستے شہروں میں شامل ہے۔ یو بی ایس کے مطابق دبئی میں کسی اپارٹمنٹ کی خریداری کی قیمت پوری کرنے کے لیے اسے کرائے پر دینے سے تقریباً 16 سال درکار ہوں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں گزشتہ چند ماہ کے دوران کچھ نرمی آئی ہے۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک حقیقی رہائشی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 0.4 فیصد اضافہ جبکہ حقیقی کرایوں میں 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ یو بی ایس نے دبئی میں پراپرٹی ببل کے خطرے کو اب بھی بلند سطح پر قرار دیا ہے۔

