عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجوہات خلیجی خطے سے تیل کی سپلائی بہتر ہونے کی توقعات اور امریکا، ایران مذاکرات کے امکانات ہیں۔
رائٹرز کے مطابق بدھ کو برینٹ خام تیل 1.09 ڈالر کمی کے بعد 98.16 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 1.50 ڈالر کمی کے بعد 89.01 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ دونوں بینچ مارک مسلسل چھٹے سیشن میں کمی کا شکار ہوئے۔
قیمتوں میں کمی کی ایک اہم وجہ سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی بحالی ہے، جس سے خلیج سے عالمی منڈی میں تیل کی رسد بہتر ہونے کی توقع پیدا ہوئی ہے۔ سعودی عرب اس پائپ لائن کے ذریعے یومیہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل بحیرہ احمر کی جانب منتقل کرسکتا ہے۔
دوسری جانب نیویارک میں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے امکانات نے بھی مارکیٹ کے خدشات کم کیے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات موجود ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی۔
امریکی خام تیل کے ذخائر میں بھی گزشتہ ہفتے 18 لاکھ بیرل اضافہ ہوا، جبکہ تجزیہ کار کمی کی توقع کر رہے تھے۔ اس اضافے نے بھی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا

