مظفرآباد (وقائع نگار)بعد ازاں پیپلزپارٹی نے انتخابی مہم کے دوران بلاول بھٹو کے ذریعے کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا اورساتھ قومی اسمبلی،سینیٹ میں نمائندگی کی بات کی، الیکشن مہم کی وجہ سے یہ تجویز دب گئی اور لوگوں نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی کی بات کو نظر انداز کیا، ان کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر کی داخلی خود اختیاری،تشخص کوکوئی خطرہ نہیں، انتخابات اسی آئینی حیثیت کے تحت ہوئے ہیں، عبوری آئین ایکٹ 1974 میں تیرہویں ترمیم کے بعد 14ویں اور اب پندرہویں ترمیم بھی ہوئی، حکومتی نظم و ضبط کیلئے آئین میں کسی بھی وقت ترمیم ہو سکتی ہے، آزادکشمیر کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل کرنے کے حوالے سے قیاس آرائیاں درست نہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 5جنوری 1949 کی قرارداد کو سب نے تسلیم کر رکھا ہے، اس قرارداد کے تحت آزادکشمیر، گلگت بلتستان کو لوکل اتھارٹی تسلیم کیا گیا جب کہ رائے شماری کی صورت میں طریقہ کار طے ہوا، پونچھ کے کچھ علاقوں میں بنیادی، آئینی حقوق کے نام پر شروع ہونے والی تحریک پرامن جدوجہد نہیں بلکہ یہ پرتشدد تحریک بن گئی ہے، حقوق مانگنا کوئی جرم نہیں، البتہ مسلح جتھہ لے کر ریاستی آئین و قانون کے خلاف کھڑا ہونا جرم ہے، آزادکشمیر کے موجودہ حالات کا ذمہ دار کون ہے، ا س کی تہہ میں جانے کی ضرورت ہے، آزادکشمیرکی سیاسی جماعتوں کو اندازہ نہیں تھا کہ حالات اس نہج پر جا سکتے ہیں، پاکستان کی جملہ سیاسی قیادت قابل احترام ہے، البتہ مسئلہ کشمیر کی احساسیت کا تقاضا ہے کہ اس حوالے سے گفت گومیں احتیاط کی جائے، جو باتیں اسمبلی کے فلور پر ہونی چاہئیں وہ چو ک چوراہوں میں نہ کی جائیں، آزاد جموں وکشمیر حکومت جمہوری آئین ایکٹ 1974 کے تحت بااختیار ہے، حق حکمرانی و حق ملکیت سلب کرنے کا الزام عائد کرنے والے بتائیں کہ پونچھ میں یہ کام کس نے کیا ہے، ایک سوال پر چوہدری طارق فاروق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے حالیہ الیکشن میں اکثریت نئے اور نوجوان چہروں کی منتخب ہو کر آئی ہے، جماعتوں کے فیصلے قیادت کرتی ہے جس طرح ماضی میں فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر کی جماعتی اور حکومتی عہدوں پر نامزدگی ہوئی اسی طرح افتخار گیلانی بھی نامزد ہوئے، میں بھی وزارت عظمی کا امیدوار تھا، مجھے سپیکر کے عہدے پر نامزد گی کی اطلاع شاہ غلام قادر اور فاروق حیدر نے پہنچائی، قیادت کے فیصلے قبول کرنا ہی جماعتی ڈسپلن ہے، افتخار گیلانی کو وزارت عظمی کیلئے فاروق حیدر نے ووٹ دیا، شاہ غلام قادر نے بھی فیصلہ قبول کیا اور اجلاسوں میں شریک ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ اپنے مقاصد کے لیے مسلم لیگ (ن) کے اندر سینئر جونیئر کی تفریق پیدا کر رہے ہیں، انہیں یہ حق حاصل نہیں، جماعت کی سینئر قیادت سے حکومت رہنمائی لے رہی ہے، اور یہ عمل اسی طرح جاری رہے گا، بحیثیت سپیکر قانون ساز اسمبلی اپنے کردار کے حوالے سے چوہدری طارق فاروق کا کہنا تھا کہ اسمبلی کے فورم کو فعال، متحرک اور سب کے لیے یکساں مواقع کا حامل بنانا چاہتا ہوں، اپوزیشن میں تجربہ کار اور سینئر اراکین موجود ہیں، جب کہ حکومتی ٹیم سے بھی ایوان کے اندر جوابدہی کی امید ہے، کمیٹی سسٹم فعال بنائیں گے، عوام کے اندر یہ احساس مستحکم بنانے کی کوشش کریں گے کہ اسمبلی کا فورم ان کے معاملات و مسائل کے حل کیلئے موجود ہے، ایک اور سوال کے جواب میں چوہدری طارق فاروق کا کہنا تھا کہ بالکل نئی اور نوجوان ٹیم سے فوری تبدیلی کی توقع رکھنے کے بجائے اسے کام کا موقع ملنا چاہیے، یہی چراغ جلیں گے توروشنی ہو گی، سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادت کو اپنا کردار متعین کرنا چاہیے، بات چیت، ڈائیلاگ، مکالمہ مسائل کے حل کی راہ تلاش کر سکتے ہیں، قیادت کا کام مستقبل کی نئی راہیں تلاش کرنا ہے، آٹے اور بجلی پر سبسڈی ختم نہیں ہو گی البتہ پنشن کا بوجھ کم کرنے سمیت تمام اداروں میں اصلاحات ہونی چاہئیں، آزادکشمیر اتنے بڑے انتظامی ڈھانچہ اور اخراجاتی حجم کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتا، انتخابات کے دوران جو وعدے کیے گئے وہ پورے کریں گے، پنجاب حکومت نے وعدے پورے کیے اب وفاقی حکومت خصوصی پیکیج دے رہی ہے۔
