بھارہ کہو (نامہ نگار) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا نواحی شہر بھارہ کہو ڈرگ مافیا کے نرغے میں، ڈرگ مافیا معاشرے میں پنجے گاڑ چکا ہے، جبکہ معاشرہ کمزور پوزیشن میں ہے، جس کی وجہ سے
نوجوان نسل کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا۔ پولیس و حکومتی ادارے خاموش تماشائی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا نواحی شہر بھارہ کہو، جس کی آبادی کم و بیش پانچ لاکھ پر مشتمل ہے، میں ڈرگ مافیا نے اپنے کاروبار کا نیٹ ورک مضبوطی سے قائم کر رکھا ہے، جس میں مقامی پولیس کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔ ڈرگ مافیا کے کارندے سکولوں اور کالجوں میں ایک منظم طریقے سے بچوں اور بچیوں کو اس طرف مائل کر رہے ہیں، جبکہ بے روزگار اور معاشی مسائل میں گھرا ہوا طبقہ بھی اس دلدل میں پھنستا چلا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک ہوتا چلا جا رہا ہے۔حکومتی سطح پر اس برائی کی روک تھام کے لیے ادارے تو قائم ہیں، لیکن عمل کوئی نہیں ہو رہا، جس کی وجہ سے عوامی حلقوں میں سخت بے چینی اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ، سیکرٹری وزارتِ داخلہ اور وزیرِ داخلہ سے پرزور اپیل کی ہے کہ اس طرف خاص توجہ دی جائے اور معاشرے سے اس برائی کو ختم کرکے آنے والی نسلوں کے مستقبل کو روشن اور مملکتِ خداداد پاکستان کے لیے ترقی کی راہیں کھولی جائیں۔
