لاہور (ویب ڈیسک) امریکی محکمہ دفاع "پینٹاگون” کے ہیومن ریسورس سسٹم پر سائبر حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں موجودہ اور سابق فوجی اہلکاروں کے سوشل سیکیورٹی نمبرز اور دیگر ذاتی معلومات افشا ہوئیں۔ اس واقعے نے قومی سلامتی کے ماہرین میں انسدادِ جاسوسی سے متعلق شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ ایران کے ساتھ براہِ راست فوجی محاذ آرائی میں مصروف ہے۔امریکی محکمہ دفاع کے ڈیفنس مین پاور ڈیٹا سینٹرکی جانب سے متاثرہ افراد کو بھیجے گئے ایک خط سے معلوم ہوا کہ ”غیر مجاز صارفین” گزشتہ اکتوبر سے مرکز کے ایک ایسے کمپیوٹر سرور تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے، جو سائبر حملے کے لیے خطرے سے دوچار تھا۔ تاہم پینٹاگون کو اس مسئلے کا علم ہوا اور اس نے اسے مکمل نو ماہ بعد، گزشتہ جولائی میں حل کیا۔ سی این این نے یہ اطلاع دی ہے۔ ابھی تک ہیکنگ سے متاثر ہونے والے ریکارڈز کی درست تعداد معلوم نہیں ہو سکی، تاہم ”ملٹری ٹائمز” نے بتایا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع کے تقریباً 40 لاکھ اہلکار متاثرین میں شامل ہو سکتے ہیں۔ پینٹاگون نے اپنے خط میں تصدیق کی ہے کہ فی الحال ایسے کوئی شواہد موجود نہیں، جن سے معلوم ہو کہ ہیک کیا گیا ڈیٹا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم اسی خط میں بتایا گیا ہے کہ بعض معاملات میں ہیکرز جن معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، ان میں فوجی اہلکاروں کی ”ملازمت کی تخصص” بھی شامل تھی۔ بظاہر یہ ایک معمولی تفصیل لگ سکتی ہے، لیکن دیگر معلومات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو اس کے سنگین مضمرات ہو سکتے ہیں۔
خط کے مطابق چوری ہونے والا ڈیٹا انکرپٹڈ نہیں تھا، حالانکہ حساس معلومات کو انکرپٹ کرنا اس نوعیت کے ریکارڈز کے تحفظ کے لیے دنیا بھر میں تسلیم شدہ معیاری سیکیورٹی طریقہ کار ہے۔دوسری جانب اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس سائبر حملے کے پیچھے کون تھا۔
امریکی فوج کے خدشات
فوجی اہلکاروں کی ملازمت سے متعلق معلومات کو سوشل سیکیورٹی نمبرز جیسے شناختی ڈیٹا کے ساتھ ملانے سے خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح امریکہ کے مخالفین کو دنیا کے مختلف علاقوں میں امریکی فوج کے لیے مخصوص ذمہ داریاں انجام دینے والے افراد کی شناخت کے بارے میں زیادہ واضح معلومات مل سکتی ہیں۔
امریکی فوج کے کمانڈروں نے اپنے اہلکاروں کو بارہا خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ان کے موبائل فونز اور آن لائن اکاؤنٹس براہِ راست حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ جس کی ذمہ داریوں میں مشرق وسطیٰ اور دیگر علاقے شامل ہیں، نے گزشتہ موسم بہار میں کانگریس کے ارکان کو بتایا تھا کہ اسے ایسی دھمکیوں سے متعلق متعدد رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن میں مخالفین کی جانب سے تجارتی ڈیٹا میں موجود مقام سے متعلق معلومات کو امریکی فوجی اہلکاروں کی نگرانی یا انہیں آپریشنل علاقے میں نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
سیکیورٹی ماہرین کی وارننگ
اس حوالے سے مشاورتی کمپنی ”گلوبل سائبر اسٹریٹیجیز” کے چیف ایگزیکٹو اور ڈیٹا بروکرز کی صنعت پر جلد شائع ہونے والی کتاب کے مصنف جسٹن شرمین نے کہا کہ کوئی بھی بدنیتی پر مبنی فریق انسانی وسائل کے ڈیٹا سینٹر سے حاصل ہونے والی معلومات کو دیگر تجارتی ڈیٹا سیٹس کے ساتھ ملا سکتا ہے۔
اس کے ذریعے محکمہ دفاع کے اہلکاروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، حتیٰ کہ ان کی آمدنی، قرضوں، ازدواجی حیثیت، اخراجات کی عادات اور آن لائن سرگرمیوں کی بنیاد پر انہیں نشانہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ طور پر لاکھوں فوجی اہلکاروں کی ذاتی معلومات کا افشا ہونا بذاتِ خود ایک سنگین خطرہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ ایران کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے اور متعدد دیگر حکومتوں کے ساتھ بھی مسابقت جاری ہے۔
ان کے مطابق کسی غیر ملکی حریف کے ہاتھ اتنی بڑی مقدار میں ڈیٹا لگنے سے اسے فشنگ حملے کرنے، افراد کے بارے میں انتہائی تفصیلی پروفائلز تیار کرنے اور غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے رابطے کی کوششیں کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ڈیفنس مین پاور ڈیٹا سینٹر امریکی محکمہ دفاع کے موجودہ اہلکاروں سابق فوجیوں اور ان کے خاندانوں کے مراعات فوائد اور ”طبی تیاری” سے متعلق معلومات تک رسائی کا واحد مرکزی ذریعہ ہے۔
اس مرکز کی خدمات متعدد اہم سرکاری اداروں کو بھی حاصل ہیں، جن میں قانون ساز ادارے، انسانی خدمات، قومی دفاع، محنت، صحت، مالیاتی شعبہ، سابق فوجیوں کے امور اور تحقیقی ادارے شامل ہیں
