ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو واحد راستہ قرار دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ ایران کی شرائط پوری ہونے اور ایک مذاکراتی حل طے پانے سے مشروط ہے۔
ایران نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک امن تجویز پیش کی تھی، جسے قطر کے ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیا۔ تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور خطے میں جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کی بات کی گئی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ایرانی تجویز مسترد کرنے کا اعلان کیا، تاہم عراقچی کے مطابق ثالثوں نے ابھی تک امریکا کی جانب سے باضابطہ طور پر مسترد کیے جانے کی اطلاع ایران کو نہیں دی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران ثالثوں کی جانب سے حتمی مؤقف پہنچائے جانے کا انتظار کر رہا ہے۔
ایرانی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران اپنے حقوق پر سمجھوتا نہیں کرے گا، جبکہ صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن دباؤ، دھمکی یا حملے کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔

