راولپنڈی(عرفان چوہان سے) رحمان آباد میں نادرا دفتر اور پاسپورٹ آفس کے باہر مبینہ ایجنٹ مافیا کی شہریوں کو لوٹنے کی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں، دور دراز علاقوں سے اپنے جائز کاموں کے لیے آنے والے سادہ لوح شہری ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹنے لگے۔ شہریوں سے مختلف سرکاری امور جلد کرانے، فارم جمع کروانے اور دیگر کاموں میں مدد فراہم کرنے کے نام پر مبینہ طور پر بھاری رقوم وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ رقم وصول کرنے کے بعد بعض افراد کی جانب سے شہریوں سے مبینہ بدتمیزی اور ناروا سلوک کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق رحمان آباد نادرا دفتر اور پاسپورٹ آفس کے اطراف میں مبینہ طور پر ایسے افراد کا گروہ سرگرم ہے جو سرکاری دفاتر میں کام کے لیے آنے والے شہریوں کو اپنے چنگل میں پھنساتے ہیں اور انہیں مختلف طریقوں سے یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بغیر ان کی مدد کے کام مکمل ہونا مشکل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایجنٹوں کے طور پر کام کرنے والے بعض افراد کا تعلق مبینہ طور پر قریبی پلازوں کے ڈرائیوروں اور ملازمین سے بھی بتایا جاتا ہے، جو دفاتر کے باہر آنے والے شہریوں کو روک کر ان کے مسائل دریافت کرتے اور کام کرانے کی پیشکش کرتے ہیں۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے شہری، جو سرکاری طریقہ کار سے مکمل طور پر واقف نہیں ہوتے، مبینہ طور پر ان افراد کی باتوں پر اعتماد کرکے رقم ادا کر دیتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نادرا اور پاسپورٹ سے متعلق سرکاری خدمات کے لیے واضح طریقہ کار اور فیس مقرر ہونے کے باوجود دفتر کے باہر مبینہ طور پر ایجنٹوں کی موجودگی سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ بعض افراد شہریوں کو مبینہ طور پر دھمکانے، دبا ڈالنے اور بدتمیزی سے پیش آنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ عوامی اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ رحمان آباد نادرا دفتر اور پاسپورٹ آفس کے باہر مبینہ ایجنٹ مافیا کی سرگرمیوں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے غیر متعلقہ افراد کے داخلے اور شہریوں سے رقم بٹورنے کے عمل کی روک تھام کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں۔ شہریوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلی پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کرکے معاملے کی شفاف انکوائری کرائی جائے، دفتر کے باہر موجود ایجنٹوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور دور دراز علاقوں سے آنے والے شہریوں کو سرکاری خدمات کے حصول میں کسی قسم کی اضافی رقم ادا کرنے سے محفوظ بنایا جائے۔
