پشاور ، اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کے آپشن پر غور کے بعد تحریک انصاف ے بھی جوابی وار کیلئے حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ ان ہاؤس تبدیلی یا اسمبلی تحلیل کرنے کے آپشنز پر غور کیا جارہا ہے، البتہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی نے سہیل آفریدی کو ہٹانے کی کوئی ہدایت نہیں کی جبکہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے گھر پہنچ گئے اور ان سے طویل ملاقات کی۔ ادھر وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت گورنر راج لگانے کی تمام شرائط پر پوری اترتی ہے جبکہ مسلم لیگ ضیا کے سربراہ اعجاز الحق نے کہا ہے کہ شاید 4 اکتوبر سے پہلے صوبائی حکومت ختم ہوجائے جبکہ ایم این اے شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ 4 اکتوبر کو بھی مارچ نہیں ہوگا۔ وفاق اور خیبرپختونخوا کی حکومت کے درمیان کشیدگی کے باعث صوبے میں غیر یقینی سیاسی صورت حال پیدا ہوگئی ہے، جہاں وفاق کی جانب سے صوبے میں گورنر راج سمیت مختلف آپشنز پر غور کیا جارہا ہے وہیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)نے بھی جوابی وار کے لیے حکمت عملی طے کرلی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت صوبے میں گورنرراج یا ایمر جنسی لگانے کے آپشن پر غور کررہی ہے جبکہ تحریک انصاف بھی اسمبلی تحلیل کرنے یا وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے لیے آپشن پر غور کررہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ تحریک انصاف کی جانب اسلام آباد مارچ کے اعلان کے بعد خیبرپختونخوا اور وفاق کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے ہیں، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں تو پی ٹی آئی بھی لانگ مارچ کے لیے بضد ہے، لانگ مارچ 27 ستمبر سے چار اکتوبر تک ملتوی تو کردیا گیا ہے لیکن کشیدگی بدستور ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعلی کی نااہلی، وزیراعلی کو تبدیل کرنے یا ان ہاوس تبدیلی لانے، اسمبلی تحلیل کرنے سمیت وزیراعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی خبریں گردش کرنے لگی ہیں۔آئین کے آرٹیکل 136 کے تحت اراکین اسمبلی وزیراعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرسکتے ہیں، آئین کے مطابق ایوان کے مجموعی اراکین کے 20 فیصد دستخطوں سے اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک جمع کرائی جاسکتی ہے، جس کے تین سے 7 روز کے اندر اسمبلی اجلاس ون پوائنٹ ایجنڈے پر بلایا جائے گا۔دریں اثناء چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف نہ کوئی پیغام بھیجا اور نہ ہی انہیں عہدے سے ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کو بانی پی ٹی آئی کا مکمل اعتماد حاصل ہے اور پی ٹی آئی بھی ان کی مکمل حمایت کرے گی۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ سب کو سمجھنا ہوگا کہ یہ حالات کو خراب کرنے کا وقت نہیں، اس وقت سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ ملک کے حالات بہتر ہوں۔انہوں نے کہا کہ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ڈیرہ اسماعیل خان میں سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے گھر پہنچ گئے اور ان سے طویل ملاقات کی۔ انہوں نے خودکش حملے کے زخمیوں کی عیادت بھی کی۔ علی امین گنڈاپور کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ درازندہ میں دہشت گردی کے واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ جب دہشت گردی ہورہی تھی تو ہم چیخ رہے تھے کہ کے پی میں دہشت گردی ہورہی ہے۔ ہم پہلے سے دیکھ رہے تھے اسلئے چیخ رہے تھے۔ اس جنگ میں صرف کے پی کی عوام نہیں بلکہ پاک فوج کے جوان بھی شہید ہورہے ہیں۔ ہر بندہ جانتا ہے کہ انکے سر کاسودا کون کررہا ہے ۔سہیل آفریدی نے کہا کہ جس پارٹی کو ہم پر مسلط کیا گیا ہے وہ کہتے کہ کے پی کے لوگ دہشت گرد ہیں۔ ہم 35 ارب پولیس کی امن کیلئے دیئے ہیں۔ ہمیں امن پیارا ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ ہمارے بچے عورتیں اور جوان شہید ہورہے پیں۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ وفاق پر چوروں کا ٹولہ قابض ہے۔ ہمیں اے پی سی نہیں دی جارہی ہے جبکہ ہماری پیمنٹ بھی ہو چکی ہے۔ وفاق کو کہا کہ اپنی اے پی سی ہمیں دے دیں کیونکہ آپکی اے پی سی ہمارے لئے استعمال ہورہی ہے۔ جنازے ہم اٹھا رہے ہیں ہمارے صوبہ زخمی ہے۔ آپ تو جہاز لے رہے ہو۔انہوں نے کہا کہ جھوٹے بیانیہ سے کے پی عوام جانتی ہے کہ آپکی حیثیت کیا ہے۔ ہم وفاق سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں اے پی سی جلد دیں۔ دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے ہم سنجیدہ ہیں۔ بند کمروں کی پالیسی نہیں مانتے ہیں۔ کے پی کی عوام کو اعتماد میں لئے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالات خراب ہیں جو حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔ دہشت گردی کی لہر میں جو شہید ہوگا اسے شہید پیکیج دیا جائے گا۔قبل ازیں وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور کی رہائش گاہ پہنچے۔ ترجمان علی امین گنڈاپور فراز مغل کے مطابق دونوں رہنماں کے درمیان ملاقات میں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال ڈیرہ میں درازندہ دھماکہ میں زخمی ہونے والوں سے ملاقات اور انکی عیادت بھی کی۔دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا آپشن موجود ہے تاہم اس پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ایک انٹرویومیں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وفاقی حکومت آئینی طور پر کسی بھی صوبے میں جن وجوہات کی بنیاد پر گورنر راج لگا سکتی ہے ، خیبر پختونخوا حکومت ان تمام شرائط پر پورا اترتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا آپشن موجود ہے، تاہم اس پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا لیکن یہ فیصلہ ہو بھی سکتا ہے کیونکہ خیبر پختونخوا حکومت آئین اور قانون کے مطابق نہیں چلائی جا رہی۔قبل ازیں رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہاہے کہ پی ٹی آئی نے دو ماہ کا وقت اپنی تیاری کیلئے لیا لیکن تیاری حکومت نے کرلی ہے۔ ایک انٹرویو میں شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی نے تیاری نہیں کی اور کہا کہ مارچ 4 اکتوبر کو کریں گے، سہیل آفریدی نے مارچ موخر کرکے کہا کہ ہمارے ساتھ بات کرلیں یہ اپنی کمزور پوزیشن کا اظہار کررہے ہیں اب 4 اکتوبر کو بھی مارچ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے وجہ نہیں بتائی کہ مارچ 4 تاریخ تک کیوں گیا انہوں نے تو 27 تاریخ کو نہ نکلنے کی بھی کوئی وجہ نہیں بتائیں۔شیر افضل مروت نے کہا کہ یہ مارچ کبھی ہونے والا نہیں تھا ارادہ ہوتا تو تیاری کی جاتی۔دریں اثناء پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے کہا ہے کہ پوری کوشش ہوگی کہ لانگ مارچ 4 اکتوبر سے آگے نہ جائے۔ ادھر مسلم لیگ ضیا کے سربراہ اعجاز الحق نے کہا ہے کہ میری نظر میں 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے قبل کے پی حکومت ختم ہوجائے گی۔
حکمت عملی
