ملتان (رپورٹ:رفاقت انجم)محکمہ سیاحت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کی 2024 تا 2626 کی بیشتر سیاحتی سکیمیں فنڈز کی عدم دستیابی کی نذر ہوکر ادھوری رہ گئیں۔سیاحتی مقامات کو دیدہ زیب بناکر غیر ملکی سیاحت کا عالمی مرکز بنانے کا حکومتی خواب تاحال پورا نہیں ہو سکا ہے ۔ جائزہ رپورٹ کے مطابق اس وقت سیاحت کے 91 ترقیاتی منصوبے نامکمل ہیں جن کے مجموعی پورٹ فولیو کی لاگت53 ارب روپے ہے۔صوبہ پنجاب میں 172 سیاحتی و ثقافتی مقامات کی ڈیجیٹل نقشہ بندی اور 8 مربوط سیاحتی سرکٹس قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تاکہ ملکی و غیرملکی سیاحوں کو مربوط سہولیات فراہم کی جا سکیں مگر اس منصوبہ پر پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔سیاحتی انفراسٹرکچر میں توسیع کے تحت 3.19 ارب روپے کی لاگت سے کوٹلی ستیاں چیئر لفٹ کی منظوری دی گئی مگر منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔ ٹینڈرنگ، گلیمپنگ پوڈ ولیج، ایڈونچر ٹریک، پیراگلائیڈنگ اور واٹر سپورٹس کے منصوبے بھی فنڈز کی کمی شکار ہیں۔ٹی ڈی سی پی کے 17 ریزورٹس کو جدید بنانے کے ساتھ دھرابی ڈیم، کلر کہار، خبیکی جھیل، چھانگا مانگا، جلو اور مری سمیت مختلف سیاحتی مقامات پر سہولیات بہتر بنانے کے منصوبے بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے۔ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے تحت ٹیکسلا، بھیرہ اور ہڑپہ کو ثقافتی شہروں کے طور پر ترقی دینے کے اقدامات جبکہ ٹیکسلا اور روہتاس قلعہ میں عالمی ورثے کے تحفظ کے منصوبے بھی ادھورے ہیں۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ میوزیم کی بروقت تکمیل میں فنڈز کی کمی آڑے آگئی۔سیاحتی مقامات پر28 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام سے تقریباً 154 ارب روپے کی معاشی سرگرمیاں پیدا ہونے اور سالانہ 12 لاکھ اضافی سیاحوں کی آمد اور تقریباً 1 لاکھ 87 ہزار براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا محکمانہ ہدف مقرر کیا گیا۔ مگر یہ اہداف دسمبر 2026 تک ترقیاتی منصوبوں کی عدم تکمیل کے باعث پورے ہونے کی توقع نہیں۔ کوٹلی ستیاں چیئر لفٹ، لاہور میوزیم کے نئے بلاک، ٹی ڈی سی پی ریزورٹس کے منصوبے بھی فائلوں تک محدود ہیں۔ تاریخی وثقافتی شہر ملتان میں قلعہ قاسم باغ کی تاریخی حیثیت بحالی کا پراجیکٹ والڈ سٹی کی تعمیر مکمل نہیں ہو سکی۔ملتان میوزیم کا افتتاح تو ہوچکا مگر تاریخی نوادرات اس میوزیم کی زینت نہ بن سکے جس کی وجہ سے سیاح میوزیم کا رخ نہیں کر رہے۔اندرون شہر تاریخی قدیم عمارتوں کو محفوظ نہیں بنایا جا سکا۔لوہاری گیٹ،دولت گیٹ،پاک گیٹ کی تاریخی حیثیت کا نام ونشان مٹ چکا۔ان کی بحالی کا کام شروع نہیں ہوا۔9 گزی تاریخی قبروں کا ثقافتی ورثہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔جنوبی پنجاب کے دیگر مشہور سیاحتی مراکز چولستان، فورٹ منرو، بہاولپور اور ماڑی راجن پور کی ترقیاتی سکیموں کی تکمیل میں فنڈز کی عدم دستیابی آڑے آئی ہوئی ہے۔ انفراسٹرکچر اور سہولیات نہ ہونے کے باعث سیاحوں نے منہ موڑنا شروع کر دیا ہے۔حکومت کی جانب سے جنوبی پنجاب میں سیاحت کے فروغ کے بلند بانگ دعوے محض بجٹ اعلانات تک محدود ہیں۔ فنڈز کے عدم اجراء اور سیاحتی سکیموں کی عدم تکمیل سے خطہ کے خوبصورت سیاحتی مقامات کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں۔چولستان اور تاریخی ورثہ بہاولپور اپنے تاریخی عباسی محلات، چولستان کا قدیم قلعہ دراوڑ صحرائی سیاحت کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ چولستان کے 7 تاریخی قلعوں کی بحالی کے لئے اربوں روپے کے فنڈز مختص ہوئے جس میں والڈ سٹی ماڈل کی طرز پر چولستانی قلعوں کی بحالی شامل تھی مگر فنڈز ریلیز نہ ہونے کی وجہ سے یہ پراجیکٹ التوا کا شکار ہے۔ تاریخی قلعے تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ رات کے وقت روشنیوں کا انتظام نہ ہونے اور صحرائی علاقوں میں سکیورٹی اور گائیڈ سسٹمز کی عدم دستیابی کے باعث فیملیز،غیر ملکی سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ فورٹ منرو ڈیرہ غازی خان جنوبی پنجاب کا مِنی مری کہلاتا ہے۔ سطح سمندر سے 6,470 فٹ کی بلندی پر واقع کوہِ سلیمان کا یہ خوبصورت پہاڑی مقام گرمیوں میں تپتے ہوئے جنوبی پنجاب کے لوگوں کے لیے واحد سیر گاہ ہے۔ فورٹ منرو ریسارٹ کی اپ گریڈیشن، پائل جھیل کی صفائی، اور سولر انرجی کے ذریعے سٹریٹ لائٹس کی تنصیب کے منصوبے فنڈز کی کمی کی نذر ہو چکے۔ سڑکوں کی خستہ حالی، پینے کے صاف پانی کی قلت اور ہوٹل مافیا کی من مانیاں بھی اب سیاحوں کی کمی کا سبب بنی ہیں۔کوہِ سلیمان کے قبائلی علاقے میں واقع ”ماڑی” ضلع راجن پور کا سب سے دلکش پہاڑی مقام ہے، جو سرد موسم اور بادلوں کے نظاروں کے لیے جانا جاتا ہے۔ ماڑی کو ایک باقاعدہ ٹورسٹ ریزارٹ بنانے کا منصوبہ کئی سالوں سے فائلوں میں دبا ہوا ہے۔ ماڑی واٹر سپلائی سکیم فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ادھوری پڑی ہے۔ یہاں تک کہ سڑکیں رود کوہی (سیلابی ریلوں) کی وجہ سے تباہ حال ہیں اور ان کی مرمت کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔ انفراسٹرکچر اور ہوٹل،ریسٹ ہاؤس کا کوئی وجود نہیں۔ پینے کے پانی کی شدید قلت کے باعث یہاں آنے والے سیاح اور مقامی لوگ جوہڑ کا آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ بنیادی سفری اور رہائشی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے یہاں سیاحت کا گراف صفر کے قریب پہنچ چکا ہے۔
سیاحتی منصوبے
بریکنگ نیوز
- ڈکیتی چوری کی وارداتیں شہری نقدی موبائل فون گاڑیوں موٹر سائیکلوں سے محروم
- ستھرا پنجاب ٹیمیں گھر کی دہلیز پر صفائی سہولیات کی فراہمی کیلئے سرگرم
- غیرملکی خاتون سے مبینہ زیادتی، بیان قلمبند، میڈیکل رپورٹ جاری
- پی ٹی آئی کے مطالبات جائز گورنر راج حکومت کے گلے پڑ جائے گا حافظ نعیم الرحمان
- پی ٹی آئی احتجاج میں اشتعال انگیزی’مزید 2 افراد گرفتار
- پنجاب میں فلو کیسز میں اضافہ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں فلو ویکسین ندارد
- کورونا کی علامات کے حامل مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی
- پاکستان کو جدید ریل رابطوں’ نئے تجارتی راستوں سے جوڑنا چاہتے ہیں: احسن اقبال
- لاہور سے کراچی جانے والی قراقرم ایکسپریس منسوخ ،مسافروں کو پاک بزنس ،کراچی ایکسپریس میں اکاموڈیٹ کیا گیا
- شالیمار میں بیوہ خاتون سے زیادتی کا واقعہ ، ملزم گرفتار
- پنجاب یونیورسٹی شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان کے زیراہتمام بین الاقوامی علمی کانفرنس
- برائلر گوشت کی قیمت میں 30روپے کلو اضافہ
- پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کا اعلان محض سیاسی دکھاوا تھا:اختیار ولی خان
- بلاول بھٹو سے پارٹی رہنماؤں کی الگ الگ ملاقاتیں’ ملکی سیاسی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال
- باگڑیاں: 365 کنال وقف اراضی پر قبضہ برسوں گزرنے پر بھی ختم نہ ہوسکا
- خصوصی بچوں کو مصنوعی ذہانت کی تعلیم متعارف کرانے کا فیصلہ
- قبضہ مافیا کی فہرست نیب کو دی ہے جلد کارروائی ہوگی:مینجر اوقاف
- پنجاب پولیس فنڈز کی کمی کے باعث مختلیف انتظامی و ترقییاتی امور متاثر ہونےلگے
- جناح ہسپتال لاہور میں کارنیا ٹرانسپلانٹ سروس شروع کردی گئی
- ایران جنگ بہت جلد جیت جائیں گے: ٹرمپ
