لاہور (خبر نگار) محکمہ اوقاف پنجاب میں اختیارات کے استعمال اور محکمانہ انکوائریوں کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھنے لگے، سیکرٹری/چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ کے اقدامات ایک بار پھر لاہور ہائیکورٹ کے کٹہرے میں آگئے۔ عدالت عالیہ نے سابق صوبائی خطیب اوقاف مفتی محمد اسحاق ساقی الازہری کے خلاف محکمانہ کارروائی سے روک دیا، جبکہ سابق خطیب داتا دربار مفتی محمد رمضان سیالوی کی جانب سے بھی سیکرٹری اوقاف اور محکمہ کے اعلیٰ حکام کے مبینہ اقدامات کو چیلنج کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق صوبائی خطیب مفتی محمد اسحاق ساقی کے خلاف کارروائی کے معاملے میں لاہور ہائیکورٹ نے سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ کو مزید محکمانہ کارروائی سے روک دیا۔ جسٹس جاوید اقبال وینس کے روبرو موقف اختیار کیا گیا کہ ریٹائرڈ ملازم کے خلاف محکمانہ کارروائی کے اختیار اور قانونی طریقہ کار سے متعلق بنیادی سوالات موجود ہیں۔ عدالت کے سامنے یہ موقف بھی رکھا گیا کہ کارروائی ضابطے کے منافی اور ذاتیات پر مبنی انداز میں آگے بڑھائی گئی۔ دوسری جانب سابق خطیب داتا دربار مفتی محمد رمضان سیالوی نے بھی سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ اور ڈی جی اوقاف کے مبینہ اقدامات کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرکے محکمہ اوقاف کی اندرونی انتظامی صورتحال کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مفتی محمد رمضان سیالوی نے 13 ستمبر 2026ء کو اپنے خلاف جاری انکوائری کے انکوائری افسر ڈی جی اوقاف کی تبدیلی اور انکوائری سے متعلق مکمل ریکارڈ و ثبوت فراہم کرنے کے لیے رٹ دائر کی تھی۔ 14 ستمبر کو عدالت عالیہ کی جانب سے سیکرٹری اوقاف کو انکوائری افسر تبدیل کرنے اور مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ مگر الزام ہے کہ عدالتی ہدایت پر مکمل عملدرآمد کرنے کے بجائے 21 ستمبر کو نامکمل ریکارڈ فراہم کیا گیا اور موثر دفاع کا موقع دیئے بغیر ہی انکوائری مکمل کرنے کی کوشش کی گئی۔ مزید یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ اگلے ہی روز 22 ستمبر کو شوکاز نوٹس جاری کرکے محکمانہ کارروائی کو مزید آگے بڑھا دیا گیا۔ محکمہ اوقاف کے سربراہ کے طرزِ عمل پر یہ سوال اب شدت اختیار کر گیا ہے کہ اگر عدالت مکمل ریکارڈ فراہم کرنے اور انکوائری افسر تبدیل کرنے کی ہدایت کرچکی تھی تو مبینہ طور پر نامکمل ریکارڈ کی بنیاد پر انکوائری مکمل کرنے اور فوری شوکاز جاری کرنے کی جلدی کیوں کی گئی؟ کیا محکمانہ کارروائی میں عدالتی ہدایات کی روح کو ملحوظ رکھا گیا یا اختیارات کے استعمال میں عجلت نے پورے طریقہ کار کو ہی متنازع بنا دیا؟ مفتی محمد رمضان سیالوی کے وکیل کا موقف ہے کہ ان کے موکل کو اپنے خلاف الزامات کا مکمل جواب دینے، متعلقہ ریکارڈ حاصل کرنے اور موثر دفاع کا قانونی حق حاصل ہے، مگر مبینہ طور پر ان حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے کارروائی یکطرفہ انداز میں آگے بڑھائی گئی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک طرف محکمہ اوقاف کی جانب سے انتظامی نظم و ضبط، احتساب اور شفافیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب اعلیٰ افسران کے خلاف عدالت عالیہ سے رجوع کرنے والے ملازمین اور سابق افسران کی درخواستوں نے محکمانہ انکوائریوں کے طریقہ کار پر ہی سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مفتی محمد رمضان سیالوی کی درخواست پر بھی عدالت عالیہ میں سماعت متوقع ہے، جہاں عدالتی احکامات پر عملدرآمد، انکوائری افسر کی تبدیلی، مکمل ریکارڈ کی فراہمی اور مبینہ یکطرفہ محکمانہ کارروائی کے قانونی پہلو زیربحث آئیں گے۔
