لاہور(جنرل رپورٹر)پنجاب ڈینٹل ہسپتال میں انتظامی بے قاعدگیوں کے باعث ادویات اور
ڈینٹل میٹریل کے اسٹاک میں مبینہ خوردبرد اور سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس پر وزیراعلی پنجاب کی منظوری سے باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر مانیٹرنگ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کو تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ ڈائریکٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر آڈٹ ونگ کو ٹیم کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم پنجاب ڈینٹل ہسپتال کے میڈیسن اور ڈینٹل میٹریل اسٹور کا مکمل ریکارڈ اور موجودہ اسٹاک چیک کرے گی جبکہ ادویات اور ڈینٹل میٹریل کی مبینہ خوردبرد کا بھی سراغ لگایا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب ڈینٹل ہسپتال گزشتہ دو برس سے مستقل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے محروم ہے اور گریڈ 20 کی اہم انتظامی پوسٹ پر مستقل تعیناتی کے بجائے جونیئر افسران کو عارضی چارج دے کر ایڈہاک ازم جاری رکھا گیا۔ مستقل سربراہ کی عدم موجودگی کے باعث ہسپتال کو انتظامی اور مالی ابتری کا سامنا ہے، جس کے اثرات اب اسٹورز کے معاملات تک بھی پہنچنے کے الزامات سامنے آنے کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی سٹاک کی موجودہ صورتحال، ریکارڈ، خریداری اور اجرا سمیت تمام متعلقہ معاملات کا جائزہ لے گی، جس کے بعد ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔
