واشنگٹن (آئی این پی)مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی اینتھروپک نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی ماڈلز آئندہ چند ماہ میں انٹرنیٹ پر خود کو نقل کرکے پھیلانے کی صلاحیتحاصل کرسکتے ہیں، جس سے سائبر سیکیورٹی کیلئے نئے اور سنگین خطرات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔کمپنی کے مطابق، اگر کوئی اے آئی نظام انسانی نگرانی کے بغیر خود کو مختلف ڈیوائسز پر پھیلانے، کمپیوٹنگ وسائل حاصل کرنے اور اسے بند کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوگیا تو اسے قابو کرنا انتہائی مشکل ہوسکتا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، اینتھروپک نے جاری کی گئی ایک تحقیق میں اس ممکنہ خطرے کی تفصیلات بیان کیں۔ کمپنی نے خدشہ ظاہر کیا کہ کوئی بے قابو اے آئی نظام انٹرنیٹ سے منسلک متعدد آلات کو اپنے کنٹرول میں لے کر ایک ایسا نیٹ ورک بنا سکتا ہے جس کے ذریعے وہ تیزی سے پھیل سکے۔ یہ نظام خود کو بند کرنے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت بھی کرسکتا ہے، جبکہ زیادہ طاقتور کمپیوٹنگ وسائل تک رسائی حاصل کرکے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی اس سے قبل بھی خبردار کرچکے ہیں کہ اگلے ایک سال یا اس سے بھی کم عرصے میں اے آئی کے ذریعے انٹرنیٹ پر بڑے پیمانے پر پھیلنے والا ایک ایسا نیٹ ورک بننے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے جسے قابو کرنا مشکل ہو۔کمپنی کی تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ درمیانے درجے کے بعض اے آئی ماڈلز، جن میں 30 ارب یا اس سے کم پیرامیٹرز ہیں، خود کو نقل کرکے پھیلنے کے عمل کیلئے درکار کئی الگ الگ کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
