نیویارک (آئی این پی )پاکستان میں ایک سال کے دوران انٹرنیٹ استعمال کرنیوالے تقریباً 15 لاکھ بچوں کو آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک اعلی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ
مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور دنیا بھر میں بیک وقت جاری بحران بچوں کے لئے نئے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کی بچوں کے خلاف تشدد سے متعلق خصوصی نمائندہ نجت معلا مجید نے جنرل اسمبلی میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے حکومتوں پر بچوں کے تحفظ کے اقدامات مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقریبا 4کروڑ 50لاکھ بچے تنازعات، قدرتی آفات اور موسمیاتی بحران کے باعث بے گھر ہیں، مصنوعی ذہانت نے بچوں کے جنسی استحصال کے لئے بڑے پیمانے پر نئے راستے کھول دئیے ہیں۔
