اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور حکومت و تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے معاملے پر پارلیمنٹ ہاس میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا، چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے حکومت پر مذاکرات ناکام بنانے، پولیس کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے اور جمہوریت پر شب خون مارنے کے الزامات عائد کر دیے، جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بیرسٹر گوہر کے مقف کے جواب میں مذاکراتی عمل کی اندرونی صورتِ حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کی امید پیدا ہو گئی تھی، تاہم علامہ راجہ ناصر عباس نے آ کر مزید مذاکرات نہ کرنے سے متعلق آگاہ کیا۔پارلیمنٹ ہاس میں بیرسٹر گوہر علی خان کی تقریر کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی کا ردعمل بھی سامنے آ گیا، جس کے بعد مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرنے کا معاملہ ایوان میں زیر بحث آ گیا۔ بیرسٹر گوہر نے مقف اختیار کیا کہ مذاکرات تحریک انصاف نے نہیں بلکہ حکومت نے خراب کیے، جبکہ اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ وہ مذاکراتی عمل کی بحالی کے خواہاں تھے اور انہوں نے آخری وقت تک فریقین سے بات چیت جاری رکھنے کی درخواست کی تھی۔بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے مذاکرات کے حوالے سے اچھی بات کی کہ بات چیت ہونی چاہیے، لیکن انہیں مذاکرات کے اندر ہونے والی تمام باتوں سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مذاکرات کے دوران وہ کون لوگ تھے جنہوں نے فریقین سے کہا کہ اٹھیں، وقت ختم ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران پیش آنے والے واقعات کی مکمل تفصیلات سامنے آنی چاہئیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ بات چیت کس نے ختم کی اور مذاکراتی عمل کو نقصان کس جانب سے پہنچا۔چیئرمین تحریک انصاف نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے مذاکرات کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں انتظامی اور پولیس معاملات میں بھی مداخلت کی۔ ان کے مطابق ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز تک تبدیل کیے گئے، جبکہ تحریک انصاف کے ویلج کونسل کے ارکان کو بھی گرفتار کیا گیا۔ بیرسٹر گوہر نے ان اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے سیاسی اختلافات کو ختم کرنے کے بجائے کارروائیوں کے ذریعے حالات کو مزید خراب کیا۔بیرسٹر گوہر نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف حکومت کے تمام نوٹیفکیشن مسترد کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پاکستان کے کسی بھی حصے میں نہیں ہونی چاہیے اور دہشت گردوں کو کہیں بھی پناہ نہیں ملنی چاہیے، تاہم دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی کو ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے جواز بنایا گیا ہے اور اس اقدام سے جمہوریت کو نقصان پہنچا ہے۔تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ عمران خان کا خوف حکمرانوں کے اعصاب پر سوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس اور امن و امان کے لیے خطیر وسائل مختص کیے گئے ہیں۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق صوبے نے پولیس پر 43 ارب روپے خرچ کیے اور صوبائی بجٹ کا تقریبا 9 فیصد پولیس کے لیے مختص کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے بقول پنجاب میں یہ شرح 3.7 فیصد اور سندھ میں 6 فیصد ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب صوبہ پولیس اور امن و امان کے لیے وسائل فراہم کر رہا ہے تو اس کے باوجود ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔بیرسٹر گوہر نے وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بارے میں واضح ہونا چاہیے کہ وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے صوبائی صدر جنید اکبر کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ وہ منتخب نمائندے اور ایوان کا حصہ ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ وفاقی حکومت فوری طور پر معافی مانگے اور اپنے اقدامات واپس لے۔اپنے خطاب میں بیرسٹر گوہر نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ قومی ذمہ داری ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے بلوچستان لبریشن آرمی اور بھارت کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھنا ضروری ہے۔ ان کے بقول حکومت نے موجودہ اقدامات کے ذریعے پورے پاکستان کو غیر فعال کر دیا ہے۔**ایاز صادق نے مذاکرات کی ناکامی کی اندرونی صورتِ حال بیان کر دی**بیرسٹر گوہر کے خطاب کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے مذاکرات کے حوالے سے اپنا مقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر خوش تھے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، تاہم اس کے بعد علامہ راجہ ناصر عباس ان کے پاس آئے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب مزید مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔اسپیکر ایاز صادق کے مطابق انہوں نے اس موقع پر بھی درخواست کی کہ مذاکرات کا راستہ بند نہ کیا جائے اور بات چیت جاری رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور یہ بات خود مذاکرات میں شریک افراد بھی جانتے تھے۔ایاز صادق نے بانی تحریک انصاف عمران خان کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ناشتے، کھانے اور کمرے سے متعلق تمام تفصیلات بیرسٹر گوہر کے ساتھ شیئر کی گئی تھیں۔ اسپیکر کے اس بیان کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ مذاکرات کے دوران بانی پی ٹی آئی سے متعلق معاملات پر بھی رابطہ اور معلومات کا تبادلہ کیا گیا تھا۔پارلیمنٹ ہاس میں ہونے والی اس گفتگو نے مذاکرات کی ناکامی کے معاملے کو ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بنا دیا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے جہاں حکومت کو مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا، وہیں اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ وہ بات چیت جاری رکھنے کے خواہاں تھے اور انہوں نے مذاکرات ختم نہ کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔دونوں رہنماں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکراتی عمل کے خاتمے کے اسباب اور آخری مرحلے میں ہونے والی بات چیت پر اختلاف برقرار ہے۔ ایک جانب تحریک انصاف حکومتی اقدامات کو سیاسی دبا اور جمہوریت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کی کوششوں کا حوالہ دے رہے ہیں۔خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ، تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف کارروائیوں اور مذاکرات کی ناکامی کے معاملے پر اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا سیاسی فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہوں گے یا دونوں جانب سے سخت مقف سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بنے گا۔
بریکنگ نیوز
- اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری سعودی عرب کے نامزد سفیر رجع نامی البدغامی اور فرانس کے نامزد سفیر جین نویل سے اسناد وصول کررہے ہیں۔
- یورپی کمشنر کی غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے کی پاکستانی کوششوں کی تعریف
- خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی مستقل نہیں رہے گی: بلاول بھٹو
- چکی محلہ ٹیکسلا ،نوجوان ٹرین کی زد میں آ کر جاں بحق
- چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر سید مرتضی حسن اندرابی ،پی اے آر سی کے بانی چیئرمین ڈاکٹر میاں امیر محمد ،ہلال امتیاز کے اعزاز میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کررہے ہیں ۔
- راولپنڈی،5 افرادگرفتار، چرس، شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد
- ہندو برادری کا مذہبی تہوار نوراتری جوش و خروش سے جاری
- پی اے آر سی کیجانب سے بانی چیئرمین کے اعزاز میں تعزیتی اجلاس
- حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ کے اہل خانہکا تشکیل کردہ کمیٹی پر اعتماد کا اظہار
- جنڈ اٹک پولیس کی کارروائی منشیات فروشی میں ملوث 03 ملزمان گرفتار
- تحصیل میں محکمہ مال کے انتظامی ڈھانچے اور پٹواریوں کی دستیابی بارے سوالات
- بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے نئی منظوری درکار نہیں، نجکاری ڈویژن نے سینیٹ کمیٹی میں جواب جمع کرادیا
- امریکی کسان کا 3 ہزار 156 پانڈ وزنی پمپکن اگانے کا عالمی ریکارڈ بننے کا امکان
- انڈونیشین پائلٹ کی شہریت کے باعث اسرائیل نے ایتھوپین ائیرلائنزکے طیارے کو واپس بھیج دیا
- اسلام آباد: وفاقی وزیر احسن اقبال کا چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ گروپ فوٹو۔
- دنیا سے جوڑیں احسن اقبال نے 100 ارب ڈالر برآمدات کا عملی راستہ پیش کر دیا
- خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی آخری آپشن کے طور پر نافذ کی: اعظم ندیر تارڑ
- اے آئی ماڈلز خود کی نقل بنا کر انٹرنیٹ پر تباہی پھیلانے کے قریب پہنچ گئے، انتھروپک کی وارننگ
- وارث خان پولیس کی کارروائی،قتل،اقدام قتل کے مقدمہ میں مطلوب ملزم گرفتار
- پنشن اور مراعات نہ دینے کیخلاف سابق جج جسٹس (ر) ظفر اقبال چوہدری کی درخواست خارج
