ملتان (وقائع نگار) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ
اسلام کے نفاذ کی راہ میں مذہبی اختلافات نہیں بلکہ اقتدار کی ہوس، دنیاوی مفادات اور اختیارات کے غیر معمولی ارتکاز کی خواہش رکاوٹ ہے۔ اسلامی قانون سازی کے معاملے میں تمام مکاتبِ فکر متفق ہیں، اسلامی نظریاتی کونسل کی 99 فیصد سفارشات متفقہ ہیں تو پھر اسلامی قوانین کے نفاذ میں تاخیر کا جواز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام، معاشی آزادی اور جمہوریت کے خوابوں کی تعبیر کے لیے حاصل کیا گیا تھا، مگر آج بھی یہ مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے۔قلعہ کہنہ قاسم باغ اسٹیڈیم ملتان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ تاریخی شہر ملتان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں سے قرآن و حدیث کے علوم برصغیر میں پھیلے۔ جس تاریخی قلعے میں آج یہ اجتماع منعقد ہو رہا ہے، اسی سرزمین پر محمد بن قاسم نے فتح کے جھنڈے گاڑے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مفتی محمود کی دینی، سیاسی اور فکری رہنمائی سے ہماری آنے والی نسلیں بھی مستفید ہوتی رہیں گی، جبکہ سرائیکی وسیب بجا طور پر مفتی محمود سے اپنی نسبت پر فخر کر سکتا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ مفتی محمود نے بلوچستان میں گورنر راج کے خلاف احتجاجاً وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کی سیاسی زندگی اصول پسندی، جمہوریت اور آئینی بالادستی کی روشن مثال ہے۔جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے تمام اداروں کے درمیان آئینی توازن ضروری ہے۔ گورنر راج کی تاریخ اور جمہوریت کے نام پر ماضی میں کیے گئے فیصلوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے سابقہ فیصلوں پر غیر جانب دارانہ غور کرنا چاہیے، جبکہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے کو سیاسی نعروں کے بجائے آئین، جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔۔ مولانا فضل الرحمٰن نے سیاسی احتجاج اور ریاستی طاقت کے استعمال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ روکنے کے لیے ریاستی طاقت استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ انہوں نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ سیاسی مطالبات کا جواب لاٹھی اور گولی سے دینا کہاں کا انصاف ہے کسی سیاسی رہنما سے ملاقات یا اسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ ریاستی طاقت کے استعمال کا جواز نہیں بن سکتا۔ سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات اور جمہوری طریقوں میں ہے، ریاستی تشدد میں نہیں۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے سعودی عرب پر جارحانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی حکومت سے یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کے دفاع کے لیے اپنی جان پیش کرنے کو تیار ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی قومی مفادات کے گرد گھومنی چاہیے، جبکہ خطے میں پاکستان کو اس کا جائز مقام دلانا اور معاشی ترقی کی راہ اختیار کرنا ہمارا نصب العین ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امن عالم کانفرنس کے لیے تیار رہیں، یہ سفر جاری رہے گا۔ امن عالم کانفرنس 26 نومبر کو سرگودھا میں منعقد ہوگی۔ دریں اثناء جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ مفتی محمود? نے اس ملک کو اسلامی آئین دیا، ہم ان کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ حکمران ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین جیسی پْرامن جدوجہد کرنے والی خواتین سے بھی خوفزدہ ہیں، لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز اٹھانے والی خواتین کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے۔مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ شہباز شریف نے میرے قائد سے وعدہ کیا، لیکن چھڑی دیکھی تو پیچھے ہٹ گئے۔ انہوں نے کہا کہ پْرامن تحریک چلانے والی خواتین سے وزیراعظم اور جنرل بھی خوفزدہ ہیں، جبکہ بلوچستان میں معدنی ذخائر پر قبضے کے لیے گورنر راج اور ایمرجنسی لگائی گئی۔ بلوچستان میں بدامنی کی صورتحال یہ ہے کہ مسافر سڑکوں پر سفر نہیں کر سکتے، جبکہ صوبائی حکومت مدعی سست، گواہ چست کا کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) جنوبی پنجاب صوبے کی تجویز دے کر خود ہی پیچھے ہٹ گئی۔
مولانا فضل الرحمٰن
