اسلام آباد (عادل عباسی) وفاقی دارالحکومت میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے آبپارہ مارکیٹ کے عقب میں قائم شہر ک قدیم ترین اور بڑی اخبار مارکیٹ کو سیل کیے جانے کے باعث اسلام آباد بھر میں اخبارات کی ترسیل معطل ہو گئی۔ اخبار مارکیٹ کی اچانک بندش کے نتیجے میں شہر کے مختلف علاقوں میں اخبارات کی سپلائی نہ ہو سکی، جس سے اخبارات کی تقسیم کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ اس اقدام پر صحافتی حلقوں اور اخبار نویسوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت، ذرائع ابلاغ کی ترسیل اور صحافتی سرگرمیوں کے لیے تشویش ناک صورت حال قرار دیا ہے۔اسلام آباد کی آبپارہ مارکیٹ کے عقب میں واقع اخبار مارکیٹ وفاقی دارالحکومت میں اخبارات کی تقسیم کے حوالے سے مرکزی اہمیت رکھتی ہے، جہاں سے روزانہ صبح مختلف قومی، علاقائی اور مقامی اخبارات شہر کے مختلف علاقوں میں تقسیم کے لیے روانہ کیے جاتے ہیں۔ اخبار فروش، تقسیم کار اور اس شعبے سے وابستہ دیگر افراد اسی مرکز کے ذریعے اخبارات کو قارئین تک پہنچانے کا انتظام کرتے ہیں۔ تاہم گزشتہ صبح سی ڈی اے کی جانب سے مارکیٹ کو سیل کیے جانے کے باعث اخبارات کی تقسیم کا معمول کا عمل رک گیا اور اسلام آباد کے شہری اپنے روزانہ کے اخبارات سے محروم رہے۔مارکیٹ کی بندش کے باعث نہ صرف اخبار فروشوں اور تقسیم کاروں کے معمولات متاثر ہوئے بلکہ اخبارات کی بروقت ترسیل کا پورا نظام بھی تعطل کا شکار ہو گیا۔ وفاقی دارالحکومت میں اخبارات کی تقسیم کے لیے اس مارکیٹ کی اہمیت کے پیش نظر اس اقدام کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔ صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اخبارات کی ترسیل کا نظام ذرائع ابلاغ کی بنیادی سرگرمیوں کا حصہ ہے اور اس میں اچانک رکاوٹ پیدا ہونے سے شہریوں تک معلومات کی رسائی متاثر ہوتی ہے۔اخبار نویسوں اور صحافتی حلقوں نے اخبار مارکیٹ کو سیل کیے جانے پر شدید غم و غصے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، مارکیٹ بند کرنے کی وجوہات عوام کے سامنے لائی جائیں اور اگر اس اقدام میں کسی قسم کی غیر قانونی کارروائی یا اختیارات سے تجاوز ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اخبارات کی ترسیل فوری طور پر بحال کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ صحافتی اداروں، اخبار فروشوں اور قارئین کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔صحافتی حلقوں کے مطابق آزاد میڈیا کا کردار صرف خبروں کی اشاعت تک محدود نہیں بلکہ ان خبروں کو عوام تک پہنچانے کے لیے ترسیل کا مؤثر نظام بھی ناگزیر ہے۔ اخبار مارکیٹ کی بندش اور اس کے نتیجے میں شہر بھر میں اخبارات کی سپلائی رکنے سے صحافتی سرگرمیوں کے تسلسل پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مارکیٹ کے حوالے سے کوئی انتظامی، قانونی یا تجاوزات سے متعلق مسئلہ درپیش تھا تو اس کے حل کے لیے متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لے کر ایسا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے تھا جس سے اخبارات کی ترسیل متاثر نہ ہوتی۔اخبار فروشوں اور تقسیم کاروں کے روزگار کا معاملہ بھی اس صورت حال میں اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ اخبارات کی روزانہ فروخت اور تقسیم سے وابستہ افراد کا معاشی انحصار اسی نظام پر ہے۔ مارکیٹ کی بندش کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹ سے ان افراد کو مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جبکہ قارئین تک اخبارات کی عدم فراہمی نے بھی شہریوں کو متاثر کیا ہے۔صحافتی حلقوں نے حکومت، وزارتِ اطلاعات، اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اخبار مارکیٹ کی بندش کے معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، متعلقہ حکام کی جانب سے اختیار کیے گئے طریقہ? کار کا جائزہ لیا جائے اور ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اخبارات کی ترسیل کی بحالی کو ترجیح دی جائے اور مستقبل میں ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن کے باعث ذرائع ابلاغ کی معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوں۔دوسری جانب مارکیٹ کو سیل کرنے کے اقدام کی وجوہات، قانونی بنیاد اور مارکیٹ دوبارہ کھولنے سے متعلق سی ڈی اے کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔ حکام کے مؤقف اور آئندہ اقدامات کے بعد ہی معاملے کی مکمل صورت حال واضح ہو سکے گی۔ صحافتی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری مداخلت کرے تاکہ اسلام آباد میں اخبارات کی ترسیل بحال ہو اور اس نوعیت کی صورت حال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
اخبار مارکیٹ
CDAکی صحافت دشمنی اسلام آبادکی قدیمی اخبار مارکیٹ سیل ترسیل نہ ہونے پر صحافی طبقوں کا شدیش احتجاج

