ملتان (انوسٹی گیشن سیل) پنجاب کے مختلف شہروں میں مساج سینٹرز، سپا کلبوں اور نجی فارم ہاؤسز میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں، ڈانس پارٹیوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے گاہکوں کو راغب کرنے کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ ملتان سمیت صوبے کے بڑے شہری مراکز میں مساج سنٹرز کی تشہیر کیلئے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کے استعمال سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی اور کارروائیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر مساج سنٹرز اور نجی تقریبات کی آڑ میں مبینہ طور پر غیر اخلاقی اور غیر قانونی سرگرمیاں جاری ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ان سرگرمیوں کے لیے سوشل میڈیا پر مختلف ناموں سے اشتہارات شائع کیے جانے، موبائل اور واٹس ایپ نمبرز کے ذریعے رابطے کی سہولت فراہم کرنے اور مختلف پیکجز کی تشہیر کیے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض اشتہارات میں تھکن اور جسمانی درد سے نجات، اسپا سروسز، ہوم مساج اور دیگر سہولیات کی پیشکش کی جاتی ہے، جبکہ بعض اشتہارات میں گھروں پر سروس فراہم کرنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں۔ حکام کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان اشتہارات کی نوعیت، متعلقہ کاروباروں کی قانونی حیثیت اور ممکنہ غیر قانونی سرگرمیوں کا جائزہ لیں ۔ ملتان میں ہوم باڈی مساج سنٹر، لگژری مساج سنٹر، ایس پی اے مساج سنٹر، ملتان سیلون اینڈ مساج سنٹرز، بیسٹ مساج سنٹر اور بیسٹ ملتان مساج سنٹر جیسے ناموں سے تشہیر کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب بعض حلقوں کی جانب سے پولیس کے بعض اہلکاروں کی مبینہ سرپرستی اور ماہانہ رقوم کے عوض کارروائیوں سے گریز کے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ شکایات کے مطابق بعض مقامات پر چھاپوں کے بعد افراد کو حراست میں لینے اور بعد ازاں مقدمہ درج کیے بغیر چھوڑنے کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس حوالے سے پولیس حکام کو پولیس ریکارڈ، شکایات، کارروائیوں کی تفصیلات کوروزانہ کی بنیادپرجانچ پڑتال کرناضروری ہے، عوامی و سماجی حلقوں نے پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام، متعلقہ ضلعی پولیس افسران اور دیگر مجاز اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے بھر میں مساج سنٹرز، اسپا کلبوں اور نجی فارم ہاؤسز کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے، غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور اگر کسی سرکاری اہلکار کی ملی بھگت ثابت ہو تو اس کے خلاف بھی محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ شہریوں نے سائبر کرائم سے متعلق مجاز اداروں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں کی تشہیر، مشکوک اشتہارات اور ممکنہ جرائم کے لیے آن لائن رابطوں کی تحقیقات کی جائیں اورذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔
مساج سنٹرز
بریکنگ نیوز
- کیٹ مڈلٹن شہزادہ ہیری سے صلح کیلئے شہزادہ ولیم پر دبائو ڈال رہی ہیں: شاہی ذرائع کا دعویٰ
- بھارتی فورسز نے ترال پلوامہ میں نظربند کشمیری کا رہائشی مکان تباہ کردیا
- اوکاڑہ’ پولیس مقابلے میں 51 مقدماتمیں ملوث ڈاکو ہلاک، 2 فرار
- پنجاب میں سموگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، 4صنعتی یونٹس اور بھٹے سیل
- ملتان:وینڈر شکرقندیوں کو ترتیب دینے کے بعد گاہکوں کی راہ تک رہا ہے۔
- راولپنڈی پولیس کی کارروائیاں،7 افراد کو حراست میں لے کر شراب اور اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد
- مجرم شاہد کو 14 سال قید اور 4 لاکھ روپے جرمانے کی سزا
- ضلع بھر میں قائم سرکاری مراکز صحت کی حالت زار، مریض ذلیل و خوار ہونے پر مجبور
- ٹھیکیدار اور سینیٹیشن عملے کی ملی بھگت، جگہ جگہ گندگی،بیماریاں پھیلنے کا خدشہ
- ممنوعہ غیر ملکی ادویات سمگل کرنے کی کوشش ناکام، خاتون گرفتار
- تھانہ سول لائنز گوراقبرستان میں چور کیبل چوری کرتے ٹریکٹر سمیت گرفتار
- راولپنڈی،2 منشیات سپلائر گرفتار 3 کلو سے زائد چرس برآمد
- پشاور:کے پی گورنر فیصل کریم کنڈی اینٹی انکروچمنٹ کارروائیوں کو کنڈی گھڑی قمر دین میں کھڑے دیکھ رہے ہیں۔
- پولیس کی جوئے کے اڈے پر ریڈ، 5 ہزار 140 نقدی ایک گاڑی 2 موبائل فون برآمد، ملزم گرفتار، مقدمہ درج
- اسپیلنگ بی مقابلے کا جی آر-6 کیمپس میں کامیاب انعقاد
- تھانہ بنی پولیس کی کارروائی، معمولی تلخ کلامی پر شہری کو زخمی کرنیوالا ملزم گرفتار
- مری میں لین دین کے تنازع پر چھری کے وار سے ایک شخص زخمی
- سی سی ڈی چکوال کی کارروائی، ڈکیتیوں میں ملوث ملزما ن گرفتار
- گیارہویں جماعت کے طالبعلم ساتھ مبینہ بدفعلی کی کوشش
- تھانہ جاتلی، 6 سال پرانا اغوا کا کیس ٹیکنیکل بنیادوں پر حل، مغویہ بازیاب جاتلی
