اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں سہیل آفریدی کی مبینہ حراست کا معاملہ اٹھاتے ہوئے تحریک التو سپیکر کو جمع کروادی۔محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا۔ قومی اسمبلی میں وزراء کی عدم موجودگی پر پیپلز پارٹی رکن آغا رفیع اللہ نے شدید احتجاج کیا جبکہ پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد گرفتار 5 سے 3 اپوزیشن ارکان کو قومی اسمبلی میں پہنچادیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور اپوزیشن کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے تحریک التوااسپیکر قومی اسمبلی کو جمع کروا ئی جس میں وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابرسلیم سواتی کی مبینہ حراست پر بحث کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔تحریک التوا میں چھ ارکان قومی اسمبلی امجد علی خان، جنید اکبر، فضل محمد خان، زبیر خان، حاجی امتیاز احمد چوہدری اور نسیم علی شاہ کی حراست پر بھی بحث کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندوں کی مبینہ حراست جمہوری اداروں کے امور اور عوامی نمائندگی سے متعلق سنگین خدشات پیدا کرتی ہے، منتخب نمائندوں کے آئینی حقوق اور پارلیمانی استحقاق کے تحفظ کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھایا جائے۔اپوزیشن نے مبینہ حراستوں کے حالات و واقعات پر ایوان میں فوری بحث کا مطالبہ بھی کیا اور معاملے پر بحث کے لیے قومی اسمبلی کا معمول کا ایجنڈا معطل کرنے کی درخواست کی۔ملک محمد عامر ڈوگر نے قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط 2007 کے رول 109 اور 110 کے تحت تحریک التوا اسپیکر قومی اسمبلی کو جمع کروادی۔دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے ارکان کی عدم موجودگی، پروڈکشن آرڈرز اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلی سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں لوگوں کو تنگ کرنے کا کوئی شوق نہیں، آپ نے ایک صوبے کی حکومت ختم کردی، اب بتایا جائے کہ خیبرپختونخوا کا وزیراعلی اور ہمارے ارکان اسمبلی کہاں غائب ہیں؟ سہیل آفریدی سمیت دیگر لوگ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔قومی اسمبلی میں قائد حذب اختلاف محمود اچکزئی نے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر دعوی کیا کہ جنید اکبر، نسیم شاہ، عادل بازئی اور عزیر خان سمیت متعدد ارکان قومی اسمبلی میں موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی رکن نے بدترین جرم بھی کیا ہو تو اس کے پروڈکشن آرڈرز حاصل کرنا اسپیکر کی ذمہ داری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ارکان کو اس ایوان میں اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں اور انہیں ایوان میں بولنے کا موقع دیا جائے۔ اپوزیشن لیڈر نے اسپیکر سے مخاطب ہوکر کہا کہ ہمیں آپ سے کچھ نہیں چاہیے، صرف آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں کہی گئی بات پر کسی کو گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی کارروائی ہونی چاہیے۔ اگر ارکان کو بولنے کا موقع ہی نہیں دیا جائے گا تو پارلیمان کا مقصد کیا رہ جائے گا؟ محمود اچکزئی نے تاریخی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 600 سال پہلے ایک بادشاہ کو پانچ ارکان کی ضرورت تھی تو اسپیکر نے اس کی درخواست کا احترام کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج اپنے ارکان کی موجودگی اور ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر انہیں کیوں نہیں سنا جا رہا؟انہوں نے مزید کہا کہ آپ جو قانون بنانا چاہتے ہیں بنائیں، لیکن اس کے نتائج بھی بھگتنا ہوں گے۔ محمود اچکزئی نے مطالبہ کیا کہ ایوان میں موجود ثنا اللہ مستی خیل اور کنڈی سمیت دیگر ارکان کو بھی بات کرنے کا موقع دیا جائے۔دریں اثناء محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے مستعفی ہونے سے انکار کردیا۔ایک ٹی وی چینل کے مطابق انہوں نے گزشتہ شب دیر گئے یہاں اپنی تحریک بحالی آئین کے اجلاس کے بعد اپنے گروپ کے قریبی ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، اگر اڈیالہ جیل میں موجود وہ شخص، جس نے مجھے قائد حزب اختلاف نامزد کیا تھا، مجھ سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کرے گا تو میں مستعفی ہو جائوں گا۔محمود اچکزئی جو کوئٹہ میں قائم اپنی جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے واحد رکن پارلیمنٹ ہیں ان کو رواں سال جنوری میں قومی اسمبلی کے اسپیکر نے قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کیا تھا۔قبل ازیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزراء کی عدم موجودگی پر پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے احتجاج کرتے ہوئے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے ارکان ایوان میں نظر نہیں آتے، عوام ہم سے سوال کرتے ہیں، اس معاملے کا نوٹس لیا جائے ۔آغا رفیع اللہ نے وزراء کی ایوان میں عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ ہیں، لیکن جب وزراء اجلاس میں موجود نہیں ہوتے تو عوامی مسائل اور سوالات کے جوابات دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس صورت حال کا نوٹس لیا جائے تاکہ ایوان کی کارروائی مؤثر انداز میں چلائی جا سکے۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عامر ڈوگر نے آغا رفیع اللہ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہماری ترجمانی کی ہے۔ انہوں نے بھی وزراء کی عدم موجودگی پر اعتراض اٹھایا۔عامر ڈوگر نے مزید کہا کہ اگلی تین نشستیں بھی خالی پڑی ہیں، اس طرح ایوان نہیں چل سکتا۔ اجلاس میں وزراء کی غیر موجودگی اور خالی نشستوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے ایوان کی کارروائی کے مؤثر انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔ادھر اپوزیشن کے گرفتار ارکان قومی اسمبلی میاں غوث محمد، داوڑ کنڈی اور جمال احسن نیازی کو پارلیمنٹ ہاؤس پہنچا دیا گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے پاکستان تحریک انصاف کے گرفتار 9 ارکان میں سے 5 کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے تھے، جس کے تحت متعلقہ ارکان کو ایوان کی کارروائی میں شرکت کے لیے لایا جا رہا ہے۔ گرفتار ارکان کو پارلیمنٹ ہاؤس پہنچانے کا مقصد قومی اسمبلی کے اجلاس میں ان کی شرکت یقینی بنانا ہے۔ اسپیکر کی جانب سے جاری کیے گئے پروڈکشن آرڈرز کے بعد گرفتار ارکان کو ایوان میں لانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پی ٹی آئی کے گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈرز کا اجرا پارلیمانی کارروائی میں ان کی شرکت کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ تاہم، باقی گرفتار ارکان کی پارلیمنٹ ہاؤس آمد اور اجلاس میں شرکت سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
قومی اسمبلی

