وزشنگٹن، تہران ( نیوز ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مزید حملوں کی دھمکی دے
دی، جبکہ ایرانی سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ دوبارہ حملہ کرنے سے پہلے سنگین نتائج کیلئے تیار رہے۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اسرائیل پر حملے کیلئے ایٹم بم نارہا ہے ۔ جبکہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں 7 آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مزید امریکی حملوں کی دھمکی دے دی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کا آغاز سابق امریکی صدور کو بہت پہلے کر دینا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے اور وہ مزید کارروائی بھی کر سکتا ہے۔امریکی صدر نے ایک بار پھر اس موقف کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی کی سیاسی قیمت سے میں ابتدا ہی سے آگاہ تھا لیکن میرے نزدیک تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ضروری ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم کسی نہ کسی صورت میں جلد کچھ نہ کچھ ہو گا۔ امریکی صدر کے بیان سے ایران کے خلاف دوبارہ حملوں کا امکان دوبارہ زیرِ بحث آ گیا ہے۔ادھر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اسرائیل پر حملے کے لیے ایٹم بم بنا رہا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران سے اسرائیل کے وجود کو خطرات لاحق ہیں، اس بار اسرائیل ٹرمپ سے پوچھے بغیر ایران پر حملہ کرے گا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے یقین دلایا ہے کہ وہ کام ختم کرنے کو تیار ہیں۔ نیتن یاہو نے ان خبروں کی تردید کی کہ اکتوبر کے آغاز میں ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران پر حملوں سے روک دیا تھا۔دوسری جانب ایرانی سپیکر باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکا دوبارہ حملہ کرنے سے پہلے سنگین نتائج کیلئے تیار رہے۔سوشل میڈیا پر ایک میم کے ساتھ پیغام میں باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ میں فائدہ سوچ رہے ہیں تو آپ غلطی پر ہیں۔ جنگ آپ کیلئے تلخ نتائج لے کر آئے گی۔ اسٹاک مارکیٹ گرے گی، لڑاکا طیارے کریش ہونگے۔ قرضوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ آپ کے فوجی مریں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا نے اسرائیل کے فضائی دفاع پر 11 ارب ڈالر خرچ کیے۔ یہ دو طرفہ تعلقات نہیں بلکہ ایک طفیلی ریاست کے ساتھ تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ اسرائیلی امریکی عوام کے پیسوں کو اپنے دفاع پر خرچ کروارہا ہے۔دریں اثناء ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سات آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں سے بعض کو نقصان پہنچا اور آگ لگ گئی، جبکہ دیگر جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد ناکارہ ہوگئے۔دوسری جانب امریکا نے ایرانی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تہران امریکی انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بیان میں کہا کہ نشانہ بننے والے سات جہازوں میں سے چار تیل کی منتقلی میں مصروف تھے اور انہیں رات کے وقت حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ان میں آگ بھڑک اٹھی۔ ایران کے مطابق باقی تین جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے باعث ناکارہ ہوئے۔تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور رپورٹ میں ممکنہ جانی نقصان یا متاثرہ جہازوں کے ممالک کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز کے دیگر حصوں میں جہازوں کی آمدورفت میں مدد جاری رکھتا ہے تو ایران مشرقِ وسطی میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ٹرمپ
