لاہور ( ویب ڈیسک) اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے مبینہ طور پر انتخابات سے پہلے ایران پر مشترکہ حملے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کرنے کی کوشش کی تاہم ٹرمپ نے فوری کارروائی کی منظوری نہیں دی۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے یہ دعویٰ اپنی خصوصی رپورٹ میں امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل گزشتہ ہفتے سے امریکا پر زور دے رہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کی حمایت کرے اور ضرورت پڑنے پر مشترکہ کارروائی میں بھی حصہ لے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور اعلیٰ امریکی حکام نے اسرائیل کو انتظار کرنے کا کہا اور یہ اشارہ بھی دیا کہ مستقبل قریب میں ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی پر اتفاق ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے خلاف بڑے حملوں کے منصوبے تیار کر رکھے ہیں اور صدر کی منظوری ملنے پر 96گھنٹوں کے اندر کارروائی شروع کرسکتی ہے۔امریکا کے ایرانی اہداف میں فوجی تنصیبات، جوہری مراکز اور اہم بنیادی ڈھانچہ شامل ہوسکتے ہیں تاہم ابھی یہ صرف منصوبہ بندی ہے، حملے کا حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔اسرائیل میں آج الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور نیتن یاہو اپنی کمزور پوزیشن کے باعث خواہش رکھتے ہیں کہ انتخابات سے قبل اگر ایران پر حملہ کردیا جائے توانہیں ہمدردی کی بنیاد پر ووٹ مل سکتے ہیں۔تاہم اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر انتخابات سے پہلے حملے کے ارادے اور فوجی قیادت میں اختلافات کی خبریں بے بنیاد ہیں۔اسرائیلی فوج نے بھی کہا کہ اس کی توجہ الیکشن کی سیکیورٹی ذمہ داریوں پر ہے اور اس سے منسوب دیگر قیاس آرائیاں گمراہ کن ہیں۔امریکا کی جانب سے سی این این کی اس رپورٹ پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا البتہ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔ادھر نیتن یاہو کے الیکشن سے قبل ایران پر حملے کے منصوبہ پر موساد چیف اور سینئر افسران میں ٹھن گئی۔اسرائیلی اخبار ہاریتز کے مطابق موساد کے سربراہ گوفمین اپنے وزیراعظم نیتن یاہو کے الیکشن سے قبل ایران پر حملے کے حق میں ہیں لیکن خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ حکام نے اس کی مخالفت کی۔اسرائیلی اخبار نے نام ظاہر نہ کرنے والے سینئر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ موساد کے اعلیٰ عہدیداروں نے ایران پر فوری حملے کے وقت اور اس کے اسرائیلی انتخابات پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بعض حکام نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا سیاسی مفادات کو قومی سلامتی کے معاملات کے ساتھ ملایا جارہا ہے۔موساد کے سربراہ رومن گوفمین اس سے قبل نیتن یاہو کے فوجی سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وزیراعظم نے انھیں رواں سال جون میں موساد کا سربراہ مقرر کیا تھا۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر اور اسرائیلی وزیر دفاع نے اس نوعیت کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا۔
نیتن یاہو
بریکنگ نیوز
- پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو وسط نومبر میں لانگ مارچ ہو گا حافظ نعیم
- پولیس ڈکیٹیاں چوریاں روکنے میں ناکام شہری لاکھوں کی نقدی زیورات گاڑیوں سے محروم
- پنجاب کے سکولوں میں 1600ہیڈ ماسٹرز بھرتی کرنے کی تجویز زیر غور
- دورانِ ڈکیتی قتل کرنے والے مجرمان کی پھانسی ،عمر قید کیخلاف اپیل خارج
- ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری
- دریائوں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال
- لاہور :ڈرائیور کی گھریلو ملازمہ سے زیادتی کی کوشش،ملزم گرفتار
- بیوی اور چچی کو آگ لگانے والے مجرم کی سزائے موت برقرار
- سونے کی قیمتوں میں کمی
- آلودہ ترین شہروں میں لاہور دوسرے نمبر پرآ گیا
- برائلر گوشت کی قیمت میں22روپے کلو کمی
- سابق آرمی چیف جنرل (ر)عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے
- تہران اجلاس کا بڑا مقصد سعودی عرب کے حالات تھے، معاہدے کے تحت ہم پر بھی سعودیہ کا دفاع لازم ہے: خواجہ آصف
- لولا دا سلوا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب، بولسونارو کو شکست دیدی
- افغانستان طالبان رجیم کیخلاف حملوں میں شدت 10 سے زائد اہلکار ہلاک
- فرانس میں احتجاجی تنظیموں کا مہنگائی کیخلاف 5 نومبر کو مکمل ہڑتال کا اعلان
- KP میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے پہلا رابطہ
- اسحاق ڈار سے چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کی ملاقات
- فتنہ الہندوستان کا پروپیگنڈا بے نقاب گوادر میں معمولات زندگی رواں دواں
- کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کیخلاف یوم سیاہ آج منایا جائیگا
