راولپنڈی(خصوصی رپورٹر)مسلم لیگ ن کے رہنما و سابق رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر)محمد صفدر نے کہا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب اس باپ کی بیٹی ہے جس نے کہا تھا کہ میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا وزیر اعلی صرف منصب انجوائے کرنے نہیں آئیں بلکہ جب پنجاب کے عوام کو انصاف نہ ملے تو بولنا بنتا ہے میں اپنے حالیہ بیانات پر قائم ہوں یہ بیانات دراصل وکلا، آئین اور قانون کی تاریخ لکھی جارہی ہے جب بھی مولوی تمیز الدین کی کہانی لکھی جائے گی تو ساتھ ان "ڈن بیسز” کی کہانیاں بھی لکھی جائیں گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مسلم لیگ ن لائرز ونگ کی دعوت پر ضلع کچہری آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو اور وکلا سے خطاب میں کیا اس موقع پر مسلم لیگ ن لائرز فورم پنجاب کے سینئر نائب صدر محمد صدیق اعوان ایڈووکیٹ، راولپنڈی ڈویژن کے جنرل سیکریٹری راجہ ساجد عزیز ایڈووکیٹ، ملک مظفر ایڈووکیٹ کے علاوہ جویریہ عنبرین ایڈووکیٹ اور بیرسٹر خدیجہ صدیق ملک سمیت بڑی تعداد میں وکلا موجود تھے کیپٹن صفدر نے کہا کہ جو چیز ہوتی ہے وہ دکھانی پڑتی ہے دکھتی ہے تو بکتی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نہ پہلے کبھی مشہور تھا نہ اب مشہور ہوں اور نہ ہی مجھے مشہور ہونے کا کوئی شوق ہے میں حق کے ساتھ کھڑا ہوں انہوں نے کہا کہ میں اپنے حالیہ بیانات پر اب بھی قائم ہوں اگر قائم نہ ہوتا تو کہیں چھپ کر بیٹھا ہوتا یوں کچہری میں نہ گھوم رہا ہوتا انہوں نے کہا کہ انہیں صرف بیان کے طور پر نہ لیا جائے جو چیز ہوتی ہے وہ دکھانی پڑتی ہے دکھتی ہے تو بکتی ہے میں نہ پہلے مشہور تھا نہ کسی بیان بازی کی وجہ سے اب مشہور ہوا ہوں اور نہ ہی مجھے مشہور ہونے کا کوئی شوق ہے حق کے لئے کھڑے ہیں البتہ جو بیان دئیے ہیں ان پر آج بھی قائم ہوں اور اپنی بات قائم ہونے کی وجہ سے ہی آج یہاں وکلا کے ساتھ کچہری میں گھوم رہا ہوں قائم نہ ہوتا تو کہیں چھپ کر بیٹھا ہوتا انہوں نے کہا کہ میری باتوں کو صرف بیان نہ سمجھا جائے یہ آئین قانون اور وکلا کی ایک تاریخ لکھی جارہی ہے جب بھی مولوی تمیز الدین کی کہانی لکھی جائے گی تو ساتھ ان "ڈن بیسز” کی کہانیاں بھی لکھی جائیں گی احسن بھون کے ساتھ جرگے یا صلح کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اللہ نہ کرے میں تو حسینیت کے ساتھ کھڑا ہوں یزیدیت کے ساتھ نہیں ہوں اگر میں ان کے ساتھ صلح کروں تو ان میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے عدلیہ پر سوالات اٹھانے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق شک و شبہات تو موجود ہیں جب ڈن بیس پر بات ہو تو وزیر اعلی صرف پروٹوکول انجوائے کرنے تو نہیں آئیں انہوں نے 10 کروڑ کے صوبے کو چلانا ہے اور سارے حالات کو دیکھنا ہے اور اس نے بات کرنی ہے کہ عدالتوں میں کیا ہورہا ہے یہ پوچھنا اس کا حق ہے ایڈووکیٹ جنرل اور لا افسران کی تعیناتی کے باوجود اگر پنجاب کے عوام کو انصاف نہیں مل رہا اور جب ڈن بیس پر بات ہو رہی ہے تو وزیر اعلی کو بات کرنی چاہیے وزیر اعلی اس باپ کی بیٹی ہے جس نے کہا تھا کہ میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا۔ قبل ازیں وکلا سے خطاب میں کیپٹن صفدر نے کہا کہ میں کسی سیاسی جماعت کا رکن ہونے کے ناطے یہاں نہیں ہوں۔ سپریم کورٹ بار کی صدارت کے امیدوار امجد شاہ کے خلاف 2021 سے عدالتوں میں بھٹک رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون اور آئین کی پاسداری ہر پاکستانی کا فرض ہے۔ ایک وقت تھا بھگوان داس سپریم کورٹ کے جج تھے ان سے سب مطمئن تھے۔ آئین میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ جمہوری ادارے ہی ترمیم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یکم نومبر کے بعد احسن بھون کے خلاف پوری تحریک اٹھے گی۔ میں اتنی دفعہ جیل گیا ہوں جیسے جیل مجھے جہیز میں ملی ہو۔ ہمیں اس ملک اور آئین کے لئے ابھی بہت قربانیاں دینی ہیں۔ میں وکلا کو درخواست کرتا ہوں جہاد اب فرض ہوگیا ہے۔ ہم اپنے 100 وکلا کی ڈگریاں عدالت میں پیش کرینگے عدالت سے کہیں گے احسن بھون سے بھی ڈگری مانگیں۔ کفر کا نظام قائم رہ سکتا ہے ظلم کا نظام نہیں رہ سکتا۔ ہماری عدالتوں اور ججز نے پاکستان کو کمزور کیا ہے۔ ڈن بیس کے اربوں روپے امریکہ اور یورپ پہنچے ہیں۔ ساجد تارڑ امریکہ میں بیٹھ کر کیسے ارب پتی بن گیا۔ ہماری اصل تحریک یکم نومبر سے شروع ہوگی۔ مجھے ہتک عزت کا نوٹس آیا میں نے کہا نوٹس وہ بھیجے جس کی کوئی عزت ہو۔ ہر مسکین خاوند کی عزت ہوتی ہے فکر نہ کریں۔ ججوں کی سلیکشن کے طریقہ کار میں ہم نے ایک عالم کو بھی بٹھانے کا مطالبہ کیا۔ ہمیں خدشہ ہے ہماری عدالتوں میں قادیانی نہ آکر بیٹھ جائیں۔ لیکن اب احسن بھون اور اعظم نذیر تارڑ آپ کو بھی استعفی دینا پڑے گا۔ ہم اصل کھرے تک پہنچ گئے ہیں ہم حافظ آباد سکول آف تھاٹ کو نہیں چلنے دینگے انہوں نے کہا کہ اعجاز افضل قادیانیوں کا وکیل تھا اسکو جج بنا دیا۔ جنرل مشرف کا سارا سسرال قادیانی تھا۔ میں نے وزیر قانون کو میسیج کیا ایسے شخص کو کیوں کھڑا کیا جس کی ڈگری جعلی ہے۔ ہم مشروط دستبرداری کیلئے تیار ہیں لیکن پہلے ڈگری دکھائیں۔ ہم اپنا امیدوار بھی واپس لینگے معافی نامہ بھی دینگے۔ احسن بھون جہاں پیش ہوگا ہمارے 100 وکلا ڈگریوں کے ساتھ پیش ہونگے۔ ہم ہر عدالت میں جاکر کہیں گے احسن بھون سے ڈگری مانگی جائے۔ ہم منشیوں کی آگے نہیں لیٹیں گے۔
