ریاض،صنعا،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں ) سعودی فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے مشرقی علاقے کی طرف داغے گئے 3 بیلسٹکمیزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق جنوبی علاقے کی طرف بھیجے گئے 4ڈرونز کو بھی تباہ کر دیا۔اتحاد کی جانب سے جاری بیان میں میزائلوں کے ممکنہ اہداف، کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ادھر سعودی حکام نے مشرقی علاقے اور خرج میں ممکنہ حملے کے جاری الرٹ واپس لے لئے ۔ علاوہ ازیں یمنی افواج کے ترجمان ماجد النزیلی نے کہا ہے کہ گزشتہ24گھنٹے میں حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں پر1276حملے کیے گئے، حوثی ملیشیا کے 382کمانڈروں اور اہلکاروں کو ہدف بنایا گیا۔یمنی افواج کے ترجمان نے بتایا کہ ایک بکتر بند گاڑی سمیت حوثیوں کی 141گاڑیاں تباہ کر دیں، حملوں میں حوثیوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، دفاعی تنصیبات اور کمک کو نشانہ بنایا گیا۔ماجد النزیلی کے مطابق تعز شہر میں متعدد پہاڑیوں اور اہم مقامات پر پوزیشن مضبوط بنا لی، تعز، الجوف، مارب اور البیضا کے محاذوں پر کارروائیاں جاری ہیں، المخا شہر میں حوثیوں کے ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ دوبارہ جاری کردیا۔ریاض میں امریکی سفارت خانے کے مطابق غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر سعودی عرب میں تعینات امریکی حکومت کے غیر ہنگامی عملے اور سرکاری ملازمین کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔امریکی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ سعودی عرب میں ہوائی اڈوں پر ممکنہ حملوں، فضائی حدود بند ہونے، پروازوں کی منسوخی اور سفری نظام میں خلل کے خدشات موجود ہیں۔ روانگی سے قبل اپنی پرواز کی تصدیق متعلقہ ایئرلائن اور ہوائی اڈے سے براہِ راست کریں۔دریں اثناء سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے نمائندوں نے تہران کا دورہ کیا اور اعلی ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔عرب میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ کا بیان میں کہنا ہے کہ ورہ علاقائی اور عالمی سطح پر مکالمے اور امن کے فروغ کی جاری کوششوں کا حصہ ہے، کوششوں کا مقصد موجودہ بحران کے فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنا، مذاکرات اور سفارتی حل کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب قطر اور پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
حوثی ہلاک
