اسلام آباد (عادل عباسی)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کا آٹھ گھنٹے طویل اجلاس ختم ہوگیا، جس میں اراکین کے درمیان مختلف معاملات پر بحث اور تلخ جملوں کے تبادلے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے نئی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں اپوزیشن لیڈر سینیٹ اور قومی اسمبلی سمیت دونوں ایوانوں کے اراکین کو شامل کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس تقریباً آٹھ گھنٹے تک جاری رہا، جس کے دوران بعض اراکین کے درمیان اختلافات بھی دیکھنے میں آئے۔ اجلاس کے ساتویں گھنٹے کے بعد فیصل امین گنڈاپور اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس موقع پر بیرسٹر گوہر انہیں پیچھے سے آوازیں دیتے رہے اور اجلاس چھوڑ کر نہ جانے کا کہتے رہے، تاہم فیصل امین گنڈاپور وہاں سے روانہ ہوگئے۔اجلاس میں ہونے والی اہم پیش رفت کے مطابق حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے نئی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ مذاکراتی کمیٹی میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور اپوزیشن لیڈر سینیٹ راجہ ناصر عباس کے علاوہ قومی اسمبلی کے دو اراکین اور سینیٹ کے دو اراکین شامل ہوں گے۔ کمیٹی حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ذمہ داریاں انجام دے گی۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی آئندہ دنوں میں نئی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کے ناموں کا باضابطہ اعلان کرسکتی ہے۔ نئی کمیٹی کی تشکیل کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مذاکرات کے ایجنڈے اور آئندہ لائحہ عمل سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔دوسری جانب پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل بھی جاری رہنے کا امکان ہے، جس میں پارٹی کی سیاسی حکمت عملی، پارلیمانی امور اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مزید مشاورت کی جائے گی۔اجلاس میں ارکان لانگ مارچ کی حکمت عملی پر پھٹ پڑے اور پلان اے بی سی کے دعوں پر سوالات اٹھائے جبکہ مذاکرات پر زور دیا اور قومی اسمبلی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز جبکہ سہیل آفریدی پر بطور وزیراعلی اعتماد کا اظہار کیا۔دریں اثناء وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان پس پردہ سیاسی رابطوں میں اہم پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق خیبرپختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب اور صوبائی انتظامی معاملات پر اتفاق رائے کی صورت میں گورنر راج ختم کرنے کا امکان زیرِ غور ہے۔ اس ممکنہ پیش رفت کو وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کم کرنے اور صوبے میں منتخب حکومت کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ پس پردہ رابطوں کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق حکومتی سطح پر یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں نئی قیادت سامنے لانے اور صوبائی معاملات کو آئینی و سیاسی طریقے سے آگے بڑھانے پر آمادہ ہوتی ہے تو وفاقی حکومت گورنر راج کے خاتمے کے امکانات کا جائزہ لے سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے کسی حتمی معاہدے یا باضابطہ حکومتی فیصلے کی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے اندر بھی صوبے میں آئندہ سیاسی حکمت عملی اور قیادت کے معاملے پر مشاورت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ پارٹی کی صوبائی پارلیمانی جماعت اور مرکزی قیادت کے درمیان ممکنہ سیاسی حل پر اتفاق رائے کسی بھی پیش رفت کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم نئے وزیراعلیٰ کے لیے کسی مخصوص نام پر اتفاق ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان رابطوں کی بحالی کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صوبائی پارلیمانی جماعت کی ہدایت پر وفاقی حکومت سے رابطہ کیا، جبکہ 20 اکتوبر کے اجلاس میں انہیں مذاکرات کا اختیار دیا گیا تھا۔ تحریک انصاف کی جانب سے سہیل آفریدی کی حکومت کی بحالی اور گرفتار کارکنوں کی رہائی کو اہم مطالبات قرار دیا گیا سیاسی مبصرین کے مطابق نئے وزیراعلیٰ کی تعیناتی کا معاملہ ممکنہ مذاکرات میں ایک حساس نکتہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ تحریک انصاف کے لیے صوبائی حکومت کی بحالی کے ساتھ اپنی سیاسی ساکھ اور جماعتی اتحاد کو برقرار رکھنا بھی اہم ہوگا۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کی ترجیح صوبے میں امن و امان کی بہتری، دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان تعاون یقینی بنانا رہی ہے۔ یاد رہے کہ 11 اکتوبر کو وفاقی حکومت کی سفارش پر صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ کے اختیارات گورنر کو منتقل کر دیے گئے ہیں موجودہ صورتحال میں سیاسی حلقوں کی نظریں حکومت اور تحریک انصاف کے آئندہ رابطوں پر مرکوز ہیں۔ اگر دونوں فریق صوبے کی نئی سیاسی قیادت، امن و امان اور انتظامی تعاون سے متعلق کسی قابلِ قبول فارمولے پر متفق ہو جاتے ہیں تو گورنر راج کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے متعلقہ آئینی تقاضوں اور قانونی طریقہ کار کی تکمیل بھی ضروری ہوگی۔قبل ازیں سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور نے شاندانہ گلزار کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ او میڈم!آپ ہر گروپ میں شروع ہو جاتی ہیں۔میڈیارپورٹ کے مطابق گنڈاپور نے شاندانہ گلزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا مہربانی کریں اپنے کام سے کام رکھیں، کس نے کیا کیا اس کی بجائے آپ بتائیں آپ نے کیا کیا؟۔علی امین گنڈاپور نے اپنے دور وزارت اعلیٰ میں پی ٹی آئی کے افراد کی جیلوں میں بند ہونے کی صورت حال کے حوالے سے بتایا ،الحمد للہ تمام چیزوں کو بہترین طریقے سے دیکھا گیا تھا، کیسز، فیملیز اور مچلکوں تک تمام چیزوں کا خیال رکھا گیا تھا، گرفتار ہونے والے تمام لوگوں کو جلد از جلد رہا بھی کیا گیا تھا ۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا آپ کو ہر گروپ میں جواب نہیں دے سکتے، آپ کے سوال ناموں کے ہم جواب دہ نہیں ہیں، آپ ایسی پوزیشن پر نہیں کہ آپ ہم سے سوال کریں۔شاندانہ گلزار کو جواب دیتے ہوئے انہوںنے مزید کہا آپ ہر جگہ ہر گروپ میں ہم سے سوال شروع کر دیتی ہیں، ایک گروپ میں آپ کو جواب دے دیا تو آپ یہاں شروع ہو گئیں، میں اتنا فارغ نہیں اور نہ آپ اتنی اہم کہ آپ کو جواب دیتا رہوں۔علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے پارلیمانی گروپ میں شاندانہ گلزار اور ذوالفقار خان کے درمیان ہونے والی مبینہ گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ، جس میں پارٹی کی ماضی کی تحریکوں، موجودہ صورت حال، جانی نقصان اور حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ذوالفقار خان نے پارٹی کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم دن بدن نقصان اٹھا رہے ہیں اور آج ہم 10افراد کو بھی اکٹھا نہیں کر سکتے۔انہوں نے اس بات کی بھی نشان دہی کی کہ پارٹی نہ خود صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر سکی اور نہ دوسروں کو سمجھا سکی۔گفتگو میں شاندانہ گلزار نے 4 اکتوبر اور 26نومبر کے واقعات، تحریکوں کی ناکامیوں اور جانی نقصان کا ذکر کرتے ہوئے پارٹی کے موقف پر سوالات اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی جیلوں میں ساڑھے پانچ ہزار سے زائد افراد پر تشدد کیا گیا لیکن ہم نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ کو کبھی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا، تو اب یہ دہرا معیار کیوں اختیار کیا جا رہا ہے؟۔ذوالفقار خان نے کہا کہ اس وقت سے آج تک نہ ہم نے غلط کو غلط سمجھا نہ صحیح کو صحیح، نہ خود سمجھنے کی کوشش کی نہ کسی دوسرے کو سمجھانے کی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم دن بہ دن نقصان اٹھا رہے ہیں۔ اور بی بی یہ کوئی معمولی نقصان نہیں ہے، آج صورت حال یہ ہے کہ ہم دس لوگوں کو بھی اکٹھا نہیں کر سکتے۔ یہ محض غلطی نہیں تھی، ان چار لوگوں نے جرم کیا ہے، سب کو معلوم تھا کہ اسی طرح ہونے والا ہے۔گفتگو میں دونوں ارکان کی جانب سے پارٹی کی حکمت عملی، ماضی کے فیصلوں اور موجودہ سیاسی صورت حال کے حوالے سے تحفظات کا اظہار بھی سامنے آیا ہے۔دریں اثناء پی ٹی آئی میں نئے وزیراعلیٰ پختونخوا کے انتخاب کیلئے مختلف گروپ سرگرم ہوگئے جس میں ایک گروپ نے علی امین کو دوبارہ چیف ایگزیکٹو بنانے کیلئے لابنگ شروع کردی۔میڈیارپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہناہے کہ نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے انتخاب کے لیے پی ٹی آئی میں سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں، وزیراعلیٰ کے معاملے پر پی ٹی آئی کے کئی مرکزی رہنمائو ں اور ایم پی ایز میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے، چند اہم مرکزی رہنمائو ں کی خواہش ہے کہ بونیر یا ہزارہ سے کسی وزیراعلی بنایا جائے جب کہ 30 سے زیادہ اراکین اسمبلی علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزیراعلی بنانے کے لئے سرگرم ہیں تاہم بانی پی ٹی آئی سے مشاورت نہ ہونے کی صورت میں نئے وزیراعلی کا انتخاب عارضی ہوگا۔ذرائع نے بتایا کہ جب تک بانی سے ملاقات نہیں ہوتی، پارلیمانی پارٹی کا منتخب کردہ شخص ہی وزیراعلی رہیگا، پی ٹی آئی کے بیشتر اراکین نے اس متعلق الگ واٹس ایپ گروپ بھی بنایا ہے۔دوسری جانب ترجمان پی ٹی آئی خیبرختونخوا شوکت یوسفزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا، سہیل آفریدی نااہل ہوئے توپارٹی قیادت مشاورت سے نئے وزیراعلی کا فیصلہ کرے گی، صوبے کی نمائندگی کرنے کیلئے علی امین کا نام پارلیمانی پارٹی نے پیش کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں کوئی گروپ بندی نہیں، اراکین اسمبلی نے واٹس ایپ گروپ آپس میں رابطے بحال رکھنے کیلئے بنایا ہے۔قبل ازیں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے حکومت سے مذاکرات ہونے چاہئیں،سیاسی تنا ئویہاں تک نہیں جانا چاہیے کہ گورنر راج کا سبب بنے۔پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کو فیملی سے ملاقات کی اجازت نہ دینا غیر انسانی سلوک ہے، سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے، سیاسی انتقامی کارروائیاں عروج پر ہیں، سیاسی مخالفین ایمرجنسی کی آڑ میں فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بیرسٹر گوہر کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے حکومت سے جلد اور تعمیری مذاکرات ہونے چاہئیں۔ سیاسی تنائو اس حد تک نہیں بڑھنا چاہیے کہ گورنر راج کی نوبت آجائے،مسائل کا حل ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور سیاسی معاملات میں درمیانی راستہ نکالنے میں ہے۔ سیاسی مخالفین ایمرجنسی کی آڑ میں فائدہ اٹھا رہے ہیں،پی ٹی آئی نیگ لو بٹ نہیں پال رکھے،سیاست میں تشدد نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہ ایک سیاسی جماعت اور اسکی قیادت کو سیاست کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا،بارہا واضح کر چکے ہیں کہ اداروں کے خلاف نہیں، بلکہ قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری پارلیمانی میٹنگ معمول کا اجلاس ہے، اس میٹنگ کو غیر ضروری طور پر سنجیدہ بنایا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی
