اسلام آباد(پ ر)پاکستان سفارت خانہ برلن کے زیر اہتمام سفارت خانے میں یوم سیاہ جموں و کشمیر کے موقع پر ایک پروقار سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرنا اور بھارتی غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر (IIOJK)کے عوام کی منصفانہ جدوجہدِ آزادی کو اجاگر کرنا تھا۔تقریب میں پاکستانی و
کشمیری کمیونٹی کے اراکین، جرمن شہریوں، ماہرینِ تعلیم، تھنک ٹینک کے نمائندگان، سول سوسائٹی اور میڈیا کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد پاکستان، جرمنی اور آزاد جموں و کشمیر کے ترانے بجائے گئے۔ صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔سفیرِ پاکستان سلمان شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کشمیری بھائی بہنوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت ہر فورم پر جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل سے مشروط ہے۔نامور کشمیری رہنمائوں الطاف حسین وانی، شمیم شال اور علی رضا سید نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ وادی کی ابتر انسانی حقوق کی صورتحال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کشمیری کاز کی مسلسل سفارتی حمایت پر حکومت اور عوامِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ پرشین سوسائٹی کے اعزازی صدر فولکر چاپکے نے بھی اپنے ویڈیو پیغام میں خیالات کا اظہار کیا۔جبکہ جرمنی سے تعلق رکھنے والے ہانس ڈوبے نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کے پرامن حل اور انسانی المیے کی اختتام پر روشنی ڈالی۔ تقریب کے دوران بھارتی تسلط کے شکار کشمیریوں کی مشکلات کو اجاگر کرنے والی ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی۔ اس کے علاوہ سفارت خانے میں ایک فوٹو نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام کے جرات کو تصاویر کے ذریعے دکھایا گیا۔ شرکا نے جرمنی میں اس مسئلے پر آگاہی پھیلانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
