اسلام آباد(لیڈی رپورٹر)ممبر قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ نے کیا، جنہوں نے واضح الفاظ میں بتایا کہ پچھلے تین سالوں میں مجموعی طور پر اتنی دہشت گردی نہیں ہوئی جتنی صرف اس ایک سال کے دوران ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اس معاملے پر سنگین حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ وفاق کی جانب سے صوبوں کی سیکیورٹی کے لیے، خصوصا خیبر پختونخوا پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 160 ارب روپے کی خطیر گرانٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ بحث کے دوران اس بات کو انت ایوانِ بالا اور قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاسوں کے دوران ملک میں امن و امان کی دگرگوں صورت حال اسلام آباد( حبہ عباسی)ممبر قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ نے کیا، جنہوں نے واضح الفاظ میں بتایا کہ پچھلے تین سالوں میں مجموعی طور پر اتنی دہشت گردی نہیں ہوئی جتنی صرف اس ایک سال کے دوران ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اس معاملے پر سنگین حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ وفاق کی جانب سے صوبوں کی سیکیورٹی کے لیے، خصوصا خیبر پختونخوا پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 160 ارب روپے کی خطیر گرانٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ بحث کے دوران اس بات کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا کہ ملک کے تین صوبے نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاق کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں، جبکہ ایک صوبے میں اس پلان پر عملدرآمد سے انکار کی وجہ سے لا اینڈ آرڈر کی صورت حال قابو سے باہر ہو رہی ہے سیکیورٹی کی اس بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیشِ نظر، سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر مذاکرات کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے اس دیرینہ موقف کے بعد کہ "مذاکرات ہی بحران کا واحد حل ہیں”، جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بھی آج حکومت اور اپوزیشن کو گرینڈ ڈائیلاگ کی باضابطہ دعوت دے دی ہے ذرائع کے مطابق، اس سیاسی پیشرفت پر حکومتی کیمپ سے بھی مثبت اشارے ملے ہیں اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور پوری کابینہ ملکی استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ میز پر بیٹھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
