Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • روات پولیس کی کارروائی،14 سالہ لڑکی سے زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار
    • گوجر خان کے، شہری کے قتل مقدمہ میں پیشرفت، مرکزی ملزم گرفتار، واقعہ تلخ کلامی پر پیش آیا
    • فوڈ انڈسٹری کی ترقی، کاروباری مسائل کا حل حکومت کی ترجیح، سلمی بٹ
    • اسلام آباد میں جے یو آئی اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی
    • شوز شاپ کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے مالیت کے امپورٹڈجوتے چوری، مقدمہ درج
    • پنجاب یوتھ اسپورٹس گالا میں طلبہ کی بھرپورشرکت کیلئے رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع
    • پائیداری کے عالمی رپورٹنگ معیارات میں ایشیا پیسیفک سرفہرست
    • کاٹلنگ کوٹی شاہ ، سوزوکی اور چنگ چی رکشہ میں تصادم چوتھی جماعت کا طالبعلم جاں بحق، تین طلبا زخمی
    • راولپنڈی، 6 گینگز کے 13 ملزمان گرفتار،24 مسروقہ موٹر سائیکل، 4 موبائل فون،رقم اور اسلحہ برآمد
    • ACامان اللہ کا جہانگیر ہ میں تجاوزات کیخلاف آپریشن
    • چکوال ، موبائل فون سروسز اور ڈیجیٹل بینکنگ کا بحران شدت اختیار کر گیا
    • مریم نواز شریف کا دورہ اٹک کامیابی سے ہمکنار ہوا :جہانگیر خانزادہ
    • اٹک :آر پی اوبابر سرفراز الپا،ڈی پی او کیپٹن علی بن طارق کے ہمراہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے اٹک کے دورے کے موقع پر سیکورٹی کا جائزہ لیتے ہوئے ۔
    • اٹک پولیس نے ہمیشہ امن و امان کے حوالے سے زمدرانہ کردار ادا کیا بابر سرفراز
    • تحصیل شالامار میں پیرا فورس بھینسوں کے باڑے ہٹانے میں ناکام سیوریج کا نظام تباہ،
    • وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن صاف ستھرا پنجاب کے برعکس تحصیل شالیمار کے مختلف علاقوں میں صفائی کی صورتحال ابتر
    • خاتون اور کمسن بچی سے زیادتی کے 2 الگ واقعات ، ملزمان گرفتار
    • پنجاب ‘KPمیں گیس فراہمی کھانا پکانے کے اوقات تک محدود
    • لاہور:مداری اپنے بکرے’ کتے اور بندروں کے ہمراہ سڑک سے گزر رہا ہے۔
    • کالعدم تحریک لبیک کے رہنما سعد رضوی’ انس رضوی کی بازیابی کی درخواست پر وفاقی سیکرٹری داخلہ اور ایف آئی اے کو جواب داخل کرانے کی مہلت
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    اسلام آباد میں جے یو آئی اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی

    By Khabrain Newsنومبر 5, 2026
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) جمعیت علمائے اسلام (ف)اور وفاقی حکومت کے درمیان جاری سیاسی محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی ہے، وفاقی دارالحکومت میں سیاسی درجہ حرارت انتہائی بلند ہو گیا ہے، ایک جانب حکومتی رہنماں اور جمعیت علمائے اسلام(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان بیان بازی کا سلسلہ شدت اختیار کر چکا ہے، تو دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ریاستی اداروں پر بھی کھل کر تنقید کی جا رہی ہے۔ سیاسی کشیدگی کے اسی ماحول میں نیب راولپنڈی، وفاقی تحقیقاتی ادارے اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے متعدد اہم رہنماں اور مولانا فضل الرحمان سے مبینہ طور پر منسلک املاک کے معاملات پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے مختلف پہلوں سے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ نیب راولپنڈی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما اور مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مفتی اسعد محمود کو ان کے دورِ وزارتِ مواصلات کے دوران ہونے والی سرکاری بھرتیوں سے متعلق تفصیلات طلب کرنے کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔ مفتی اسد محمود 2021-22 کے دوران وفاقی وزیر مواصلات رہے تھے۔ نیب کی جانب سے ان کے دورِ وزارت میں ہونے والی بھرتیوں اور مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے کو تحقیقات کا حصہ بنایا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نوٹس میں وزارت کے ماتحت اداروں میں بھرتیوں کے طریقہ کار، منظور شدہ آسامیوں اور اصل میں کی جانے والی تعیناتیوں سے متعلق تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق تقریبا تین ہزار آسامیوں کے لیے بھرتیوں کی اجازت دی گئی تھی، تاہم نیب کے سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق چار ہزار سے زائد بھرتیوں کا معاملہ بھی تحقیقات کے دائرے میں آ گیا ہے۔ نیب نے اس حوالے سے وضاحت اور متعلقہ ریکارڈ طلب کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش شروع کر دی ہے کہ منظور شدہ آسامیوں کے مقابلے میں اتنی بڑی تعداد میں بھرتیاں کس طریقہ کار کے تحت کی گئیں اور ان تعیناتیوں کی منظوری کس سطح پر دی گئی۔دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بھی اسی سلسلے میں کارروائی کرتے ہوئے مفتی اسد محمود کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔ ادارے کی جانب سے متعلقہ معاملات پر وضاحت اور ریکارڈ حاصل کرنے کا عمل شروع کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضی بھی مختلف اداروں کے نوٹسز کے معاملے پر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ سینیٹر کامران مرتضی کے خلاف ایف آئی اے اور وفاقی بورڈ آف ریونیو کی جانب سے متعدد نوٹسز سامنے آنے کے بعد انہوں نے اپنے مقف میں واضح کیا ہے کہ انہوں نے نہ کوئی منی لانڈرنگ کی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی بے ضابطگی میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر ایف آئی اے کے سامنے ضرور پیش ہوں گے اور اپنا جواب جمع کروائیں گے۔ کامران مرتضی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے قانونی تقاضے پورے کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ادھر وفاقی دارالحکومت میں مولانا فضل الرحمان سے مبینہ طور پر منسوب ایک رہائشی جائیداد کا معاملہ بھی سامنے آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سیکٹر جی فور، مکان نمبر، اسٹریٹ نمبر 83 کے مبینہ مالک امان اللہ کو بھی متعلقہ اداروں کی جانب سے نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا ہے اور جائیداد سے متعلق مختلف امور پر جواب طلب کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور ایف آئی اے کی جانب سے کارروائی کی اطلاعات ہیں، تاہم جائیداد کی ملکیت، اس سے متعلق قانونی دستاویزات اور مولانا فضل الرحمان سے اس کے مبینہ تعلق کے حوالے سے حتمی حقائق سامنے آنا باقی ہیں۔سیاسی حلقوں میں ان کارروائیوں کو جمعیت علمائے اسلام (ف) اور حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایک طرف مولانا فضل الرحمان حکومت کی پالیسیوں اور ریاستی اداروں کے کردار پر سخت تنقید کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف ان کی جماعت کے اہم رہنماں کے خلاف مختلف اداروں کی جانب سے نوٹسز اور تحقیقات کا آغاز سیاسی ماحول کو مزید گرم کر رہا ہے۔اہم سوال یہ ہے کہ آیا ان کارروائیوں کا دائرہ صرف متعلقہ بھرتیوں، مالی معاملات اور جائیداد سے متعلق تحقیقات تک محدود رہے گا یا آنے والے دنوں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مزید اہم شخصیات بھی اداروں کے سامنے جواب دہ ہوں گی۔ دوسری جانب جے یو آئی (ف) کی قیادت ان کارروائیوں کو کس نظر سے دیکھتی ہے اور کیا اس معاملے پر مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حکومت کے خلاف مزید سخت سیاسی ردعمل سامنے آئے گا، یہ آنے والے دنوں میں اسلام آباد کی سیاست کا اہم ترین موضوع بن سکتا ہے۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      روات پولیس کی کارروائی،14 سالہ لڑکی سے زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار

      گوجر خان کے، شہری کے قتل مقدمہ میں پیشرفت، مرکزی ملزم گرفتار، واقعہ تلخ کلامی پر پیش آیا

      فوڈ انڈسٹری کی ترقی، کاروباری مسائل کا حل حکومت کی ترجیح، سلمی بٹ

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.