Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں 24 جولائی تک توسیع
    • 2.7 ارب ڈالر کی ڈیل، معروف پیزا چین 68 سال بعدفروخت
    • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق اچھی خبر آئے گی: وزیرپیٹرولیم
    • تحریک انصاف حکومت سے مذاکرات پر تیار ہوگئی
    • بلوچستان بجٹ 2026-27: تعلیم، صحت اور امن وامان ترجیح
    • رشمیکا مندانا نے اپنی خوبصورتی کا راز بتادیا
    • ہر کوکا کولا آپ کی زندگی کے 12 منٹ کم کر سکتی ہے
    • میں نے ایک ماہ قبل سگریٹ نوشی چھوڑ دی تھی،” اطالوی وزیراعظم
    • اپنی ہر جھری پر فخر ہے، ہر ایک میری زندگی کی کہانی سناتی ہے۔” — کیٹ ونسلیٹ
    • آسٹریلیا نے پہلے ٹی 20 میچ میں بنگلہ دیش کو شکست دے دی
    • پنجاب میں ریسٹورنٹس پر کارڈ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز
    • ٹرمپ محفوظ، وائٹ ہاؤس پر ڈرون اور اسنائپر حملے کی سازش ناکام، 5 منصوبہ ساز گرفتار
    • سعودی عرب میں پاکستانی لائسنس قبول کیے جانے کا امکان
    • کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟
    • امریکا ایران معاہدہ ، روسی حکومت اور میڈیا نے پاکستان کو عالمی امن کا ضامن قرار دے دیا
    • کینسر کے علاج میں مصنوعی ذہانت امید کی نئی کرن
    • سونے کی قیمت میں کمی ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
    • 16 سے 18 سال کے نوجوانوں کے لیے جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ متعارف، رواں ہفتے سے اجرا شروع
    • ڈونلڈ ٹرمپ کی سالگرہ پر ایران نے تاریخی ڈیل کیسے کی؟
    • بکریوں کی انسانوں کے حوالے سے حیرت انگیز صلاحیت کا انکشاف
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    مریم نواز نے تحقیقات کا رُخ ہی بدل ڈالا ،حقیقت کچھ اور ہی نکلی

    By Daily Khabrainجولائی 12, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    maryam nawaz
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email
    اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو شریف خاندان کے بیانات میں ویسے تو کئی ‘بے ضابطگیاں’ نظر آئی ہوں گی تاہم ان میں سے کوئی بھی چیز عوام کی اس قدر توجہ حاصل میں کامیاب نہ ہوئی جتنا کہ وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کی جمع کرائی گئی دستاویزات میں” کلیبری فونٹ “کے استعمال سے ان کا جھوٹا ثابت ہونا۔یاد رہے کہ 15 نومبر کو اپنے ٹوئٹر پیغام میں وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا تھا کہ ‘وہ لندن فلیٹس کی ٹرسٹی ہیں، مالک نہیں’۔جبکہ اس بات کے ثبوت کے طور پر انہوں نے چند دستاویزات کی تصاویر بھی اپنی ٹوئیٹ میں شیئر کی تھیں۔جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ میں سے لی گئی مندرجہ ذیل تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم نے مریم نواز کی دستاویزات پر کیا اعتراض اٹھایا۔جے آئی ٹی میں جمع کرائے گئے ڈکلیئریشن دستاویزات میں کلیبری فونٹ کا استعمال کیا گیا، جو 31 جنوری 2007 سے پہلے کمرشل بنیادوں پر دستیاب نہیں تھا، جمع کرائے گئے ڈکلیئریشن سرٹیفکیٹس میں اصل تاریخ نہیں ہے، یہ بعد میں تیار کیے گئے’۔نجی خبررساں ادارےنے کلیبری فونٹ کو تخلیق کرنے والے گرافک ڈیزائنر لوکاس ڈی گروٹ سے رابطہ کیا تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا یہ فونٹ مریم نواز کے حمایتیوں کے دعوے کی طرح فروری 2006 میں (جب دستاویز پر دستخط کیے گئے) یا اس سے قبل موجود تھا، یا 2007 میں سامنے آیا۔لوکاس دی گروٹ کی کمپنی لوکاس فونٹس کی جانب سے اس سوال کا جواب کمپنی کے نمائندے لیسیلوٹ شیفر نے دیا۔ جواب میں کہا گیا کہ ‘لوکاس سے ہونے والی بات چیت کے مطابق کیلبری فونٹ کی ریلیز سے متعلق ہم یہ معلومات فراہم کرسکتے ہیں: لوکاس نے اس فونٹ کی ڈیزائننگ کا آغاز 2002 میں کیا اور فونٹ کی حتمی سورس فائلز مارچ 2004 سے قبل مائیکروسافٹ کو روانہ نہیں کی گئی تھیں’۔جواب میں مزید کہا گیا کہ ‘مائیکروسافٹ وسٹا آپریٹنگ سسٹم کے بِیٹا ورڑنز میں یہ فونٹ ممکنہ طور پر موجود ہوسکتا ہے تاہم مائیکروسافٹ کمپنی ہی اس بارے میں بتا سکتی ہے’۔لوکاس فونٹس کے مطابق ‘ونڈوز بیٹا ورڑنز، پروگرامرز اور ٹیکنالوجی کے شوقین افراد کے لیے ہوتے ہیں تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جاسکے کہ کیا یہ لوگوں میں مقبول ہوگا یا نہیں’۔کمپنی کے جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ ‘چونکہ ایسے آپریٹنگ سسٹمز کا فائل سائز بہت بڑا ہوتا ہے اس لیے اسے حاصل کرنا دشوار امر ہے’۔مزید کہا گیا، ‘ہماری معلومات کے مطابق کلیبری کا پہلا عوامی بیٹا ورڑن 2006 میں شائع ہوا، ہم ریلیز کی تاریخ تو نہیں جانتے مگر ایسا بہت مشکل ہے کہ کوئی سرکاری دستاویزات میں استعمال کے لیے بِیٹا ماحول سے فونٹس کاپی کرے’۔دوسری جانب وکی پیڈیا پر موجود معلومات کے مطابق اس فونٹ کا پہلا عوامی بیٹا ورڑن 6 جون 2006 میں ریلیز ہوا جو مریم نواز کے کاغذات پر دستخط کرنے کے 4 ماہ بعد کی تاریخ ہے۔ لوکاس فونٹس کا بیان اس لیے بھی وزن رکھتا ہے کیونکہ سافٹ ویئرز کے بیٹا ورڑن نامکمل اور تجرباتی مرحلے میں ہوتے ہیں اور صرف کمپیوٹر سافٹ ویئر میں غیرمعمولی دلچسپی رکھنے والے افراد ہی ان کا استعمال کرتے ہیں۔ای میل میں مزید بتایا گیا کہ مائیکروسافٹ آفس 2007 پہلی پراڈکٹ ہے جس میں کلیبری کا بڑے پیمانے پر باقاعدہ استعمال ہوا، 30 نومبر 2006 میں والیوم لائسنس کسٹمرز کو فراہم کیا گیا اور 30 جنوری 2007 میں اسے ریٹیل کے لیے پیش کیا گیا۔ایک علیحدہ ای میل میں فونٹ ڈیزائنر دی گروٹ کا خود کہنا تھا کہ تھیوری میں تو ایسا ممکن ہے کہ کسی کمپیوٹر ماہر کے ہاتھوں بیٹا آپریٹنگ سسٹم سے حاصل کرکے 2006 میں دستاویز میں کلیبری فونٹ کا استعمال کرلیا جائے، لیکن سوال یہ ہے کہ 2006 میں کوئی کیوں ایک نامعلوم فونٹ کو سرکاری دستاویزات میں استعمال کرے گا؟’ڈیزائنر کا مزید کہنا تھا کہ ‘اگر کیلبری استعمال کرنے کا شوقین فرد فونٹس کو اتنا ہی پسند کرتا ہوگا تو وہ 2006 میں ا±سی فونٹ میں تحریر مزید دستاویزات بھی بطور ثبوت پیش کرسکتا ہے’۔لوکاس ڈی گروٹ کا کہنا تھا کہ ‘ان کے خیال سے مریم نواز کی دستخط شدہ دستاویزات بہت بعد میں تیار کی گئی ہیں جب کیلبری مائیکروسافٹ ورڈ کا ڈیفالٹ فونٹ تھا’۔یوں تو فرانزک ماہرین کا یہی کہنا ہے کہ 31 جنوری 2007 سے قبل عوام کی اس فونٹ تک رسائی نہیں تھی اور اس کا 2006 کی دستاویزات میں استعمال غیرمعمولی ہے تاہم کچھ افراد یہ اصرار کرتے ہیں کہ مذکورہ فونٹس کافی پہلے سے گردش میں ہے اور مریم نواز کا اسے استعمال کرنا مشتبہ نہیں۔ان ہی افراد میں سے ایک بیرسٹر ظفراللہ خان ہیں جنہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں فرانزک ماہرین کے خیال پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایسا دعویٰ کرنے والے گوگل کریں اور دیکھیں کہ یہ اگست 2004 میں ریلیز ہوچکا تھا۔خیال رہے کہ اس حوالے سے انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے وکی پیڈیا کی معلومات میں بھی مسلسل تبدیلیوں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔صارفین کی جانب سے بار بار فونٹ کی ریلیز کی تاریخ تبدیل کیے جانے کے بعد وکی پیڈیا نے 18 جولائی تک اس میں کسی ردوبدل پر پابندی عائد کردی ہے۔

     

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں 24 جولائی تک توسیع

    یکم سے 10 محرم تک ایک لاکھ پولیس اہلکار ڈیوٹی پر معمور سٹی پولیس چیف لاہور

    لاہور میں مبینہ سیلز میں بے ضابطگیوں پر ڈبل شاٹ کے آؤٹ لیٹس سیل کر دیے گئے

    تازہ ترین

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق اچھی خبر آئے گی: وزیرپیٹرولیم

    تحریک انصاف حکومت سے مذاکرات پر تیار ہوگئی

    بلوچستان بجٹ 2026-27: تعلیم، صحت اور امن وامان ترجیح

    سونے کی قیمت میں کمی ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

    16 سے 18 سال کے نوجوانوں کے لیے جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ متعارف، رواں ہفتے سے اجرا شروع

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.